China And Taliban

چین کے سپنے طالبان کے خواب

مغربی تجزیہ کاروں کی اس بات میں کافی وزن ہے کہ ”کمیونسٹ چین لادین ملک ہے،جس کا بنیادی منشور،دین و مذہب سے بالاتر ہوکر فقط سماجی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیئے کام کرنا ہے۔ جبکہ طالبان مکمل مذہبی ہیں۔جن کے نزدیک اپنی مذہبی اقدار کا احیاء ہی ترجیح اوّل ہے۔ چونکہ چین اور طالبان کے نظریات مذہبی بنیادوں پر ایک دوسرے سے سخت متصادم ہیں۔اس لیئے ددنوں کا زیادہ دیر تک ایک دوسرے کے ساتھ چلنا مشکل نظر آتا ہے“۔ اس وزنی دلیل کے جواب بس، اتنا ہی عرض کیا جاسکتاہے کہ اگر کمیونسٹ چین اور مذہبی طالبان تھوڑ ی سی مدت یعنی چار، پانچ برس بھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے میں کامیاب ہوگئے تو یقین مانیئے! اقوام ِ عالم میں امریکی استعمار کے سارے خواب چکنا چور ہوجائیں گے۔ عین ممکن ہے کہ آپ کو میری یہ رائے کچھ سطحی، غیر حقیقی اور مبالغہ آمیز محسوس ہولیکن اگر آپ چین اور طالبان کی گزشتہ چند ہفتوں کی ”سفارتی رفاقت“ کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے تو منکشف ہو گا کہ چین اور طالبان کے ملاپ نے واحد عالمی طاقت امریکا کے زوال کو وہ روشنی کی رفتار والی تیزی، دے دی ہے۔ جس کے بعد امریکا کا سب سے دیرینہ اور بااعتماد حلیف برطانیہ بھی اعلانیہ یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ ”اَب امریکا دنیا کی سپر پاور نہیں رہا ہے“۔

مزید یہ بھی پڑھیے: چین اور امریکا کے مابین “خلائی جنگ” ہونے کو ہے؟

یاد کریں وہ وقت،جب ابھی دوحہ معاہدہ کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی،افغان صدر اشرف غنی مال و اسباب سمیٹ کر ملک سے فرار نہیں ہوئے تھے، امریکی فوجی بگرام ائیر بیس سے رات کی تاریکی میں بھاگے نہیں تھے اور طالبان کابل میں داخل نہیں ہوئے تھے۔یہ ہی وہ سنہری دن تھے جب پوری دنیا پر بے پناہ طاقت،جدید ٹیکنالوجی اور سفارتی اثرو رسوخ کے سارے چمچماتے سکے صر ف امریکا کے ہی تو چلتے تھے۔ لیکن پھر اچانک طالبان کے اہم ترین رہنما ملاعبدلغنی برادر بیجنگ میں چینی وزیرخارجہ ”وانگ ژی“ سے ملتے ہیں اور ٹھیک دو ہفتے بعد طالبان اس طمطراق سے کابل میں داخل ہوتے ہیں کہ انہیں روکنے والا اور ٹوکنے والا بھی کوئی دور،دور تک دکھائی نہیں دیتا۔

مجھے تو ہنسی آتی ہے،سیدھے ہاتھ والے اُن سادہ لوح اینکراور تجزیہ کاروں پر جو چیختے اور چنگھاڑتے ہوئے روزانہ دہائی دے رہے ہیں کہ ”چین اور پاکستان،طالبان حکومت کو کب تسلیم کریں؟“۔اَب کوئی اِن جذباتی اندھوں سے پوچھے کہ امریکا،برطانیہ، بھارت حتی کہ یورپ اور مغرب کے ہر ملک کی قیادت صبح و شام، عالمی ذرائع ابلاغ پر پورے شد و مد کے ساتھ رطب اللسان ہے کہ ”چین اور پاکستان طالبان حکومت کے پیچھے ہیں“۔مگر افسوس سیدھے ہاتھ والوں کو یہ نظر نہیں آتا کہ طالبان حکومت کے آگے کون ہے اور اُلٹے ہاتھ والوں کو یہ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ طالبان حکومت کے پیچھے کون ہے۔یعنی پوری دنیا تسلیم کررہی ہے کہ طالبان حکومت کو چین کی حمایت حاصل ہے مگر بعض عاقبت نااندیش اسی فکر میں مرے جارہے کہ آخر چین کب طالبان حکومت کو تسلیم کرے گا۔

کم ازکم اس معاملے میں بھارتی ذرائع ابلاغ کو اتنی داد دینا تو بنتی ہے کہ بھارتی میڈیا اپنے 75 سالہ صحافتی کیریئر میں پہلی بار اپنے مکمل جھوٹ میں،تھوڑی بہت سچ کی آمیزش کرنے کے بعد بھارتی عوام کو پوری تحقیق کے ستھ باور کروا رہا ہے کہ ”طالبان حکومت اور چین ایک ہیں“۔واضح رہے کہ چین اور طالبان کے درمیان کافی عرصہ سے خفیہ سلسلہ جنبانی دراز ہے اور چینی قیادت افغانستان کی تعمیر نو اور بحالی کے لیئے سابق افغان صدر حامد کرزئی اور اشرف غنی کے دورِ حکومت سے اُن کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیئے کمر بستہ ہے۔ چین کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ افغانستان میں کمرشل منصوبہ جات شروع کیے جائیں، تاہم افغانستان میں بھارت کے اثرورسوخ کے باعث ماضی میں اس سمت کوئی خاص پیشرفت نہیں ہو سکی تھی۔ مگر پھر بھی اشرف غنی کی حکومت میں چائنا میٹالرجیکل گروپ کارپوریشن کی قیادت میں ایک کنسورشیم (تجارتی اداروں کی تنظیم) نے کابل کے جنوب مشرق میں واقع مس عینک نامی علاقے میں تانبے کے ذخائر میں کان کنی کی خاطر تین بلین ڈالر کی بولی لگائی تھی۔ اس کے ساتھ اس منصوبے کے تحت افغانستان میں ایک پاور پلانٹ لگانے کے لیے ریلوے لائنز پچھانا تھیں اور دیگر ترقیاتی منصوبہ جات شروع کیے جانا تھے۔ کئی برسوں کی کوششوں کے باوجود بھی یہ منصوبے شروع نہیں ہو سکے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی تھی۔

دلچسپ با ت یہ ہے کہ چین نے افغانستان سے متصل پاکستانی علاقوں میں بھی بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اس کا مقصد وسط ایشیائی خطے تک تجارت کے زمینی روٹ تیار کرنا بھی ہے۔ تاہم افغانستان میں بدامنی کی وجہ سے ابھی تک اس اہم تجارتی روٹ کی تعمیر کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا تھا، یا شاید چینی قیادت کو طالبان حکومت کے کابل میں قدم جمانے کا انتظار تھا۔ بہرحال چین، ہمیشہ سے ہی طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے اور ان کے ساتھ آخری حد تک مالی، اقتصادی، سیاسی تعاون کے لیے تیار ہے۔

کیوں کہ بیجنگ کی نظر میں افغانستان، امریکا کو زچ کرنے والے ایک مہلک ہتھیار کے ساتھ ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو آگے بڑھانے کا ایک سنہرا معاشی موقع بھی ہے۔نیزچین اور افغانستان کے درمیان 76 کلو میٹر طویل سرحد بھی ملتی ہے جب کہ چین بدخشاں میں منظم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔چین کو خدشہ ہے کہ افغانستان میں انتہا پسندی بڑھی تو اس کے اثرات اس کے صوبے سنکیانگ میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔اس لیئے چین افغانستان کا پڑوسی ہونے کی حیثیت سے چاہتا ہے کہ خطے میں امن ہو اور اس حوالے سے بیجنگ طالبان کو خطے میں ایک قابلِ اعتماد سیاسی قوت کے طور پر دیکھتا ہے۔یعنی چین مستقبل میں طالبان کی مدد و اعانت سے اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کو خواہش مند ہے۔

چین،طالبان کے قریب آنا چاہتا ہے،یقینا اس چینی خواہش کے پس پردہ خطے میں چینی مفادات کا تحفظ ہی ہے۔ مگر دوسری جانب طالبان، چین کے قریب سے قریب تر،صرف اس لیئے جانے پر مجبور ہیں کہ امریکا نے فوجی انخلاء کے فوراً بعد افغان سینٹرل بینک کے بیرون ملک موجود 10 ارب ڈالرز کے اثاثے منجمد کر کے طالبان کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا،آپشن ہی نہیں چھوڑا ہے کہ افغانستان کے ہر تباہ حال شعبہ کی تعمیر نو، ترقی اور بحالی کے لیئے وہ چینی قیادت کے جانب مدد طلب نگاہوں سے دیکھیں۔غالب گمان یہ ہی ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر طالبان حکومت کو عالمی تنہائی کے گہرے گڑھے میں دھکیلنا چاہتا ہے۔

شاید امریکی صدر جوبائیڈن سوچتے ہیں کہ عالمی تنہائی کی دھمکی کام کرے گی اور طالبان امریکا کے مطالبات کے آگے سر تسلیم خم تسلیم کردیں گے۔ مانا کہ گوریلا جنگ کرنا اور عوام پر حکومت کرنا دو، یکسر مختلف کام ہیں اور اس وقت طالبان کو اچھے نظم و نسق کے ساتھ افغان عوام پر حکومت کرنی ہے۔بلاشبہ اچھے انداز میں حکومت چلانے کے لیئے طالبان کو خطیر مالی امداد درکار ہوگی۔ اس مشکل وقت میں چین جس طرح سے طالبان حکومت کی مال و اسباب سے مدد کررہا ہے،اُس کے بعد مستقبل میں طالبان کا بیجنگ کی جانب جھکاؤ ہونا بالکل ایک فطری سی بات ہوگی۔ اس نازک مرحلے پر چین کی تو یہ ہی خواہش ہوگی کہ امریکا اور طالبان کے تعلقات بدستور کشیدہ ہی رہیں تاکہ چینی قیادت کو زیادہ سے زیادہ طالبان کے قریب آنے کا موقع مل سکے۔

دلچسپ بات یہ ہے امریکا کے اتحادی ممالک طالبان کے معاملہ پر امریکی صدر جوبائیڈن کی اس حکمت عملی سے قطعی طور پر متفق نہیں ہیں کہ طالبان سے اپنے مطالبات منوانے کے لیئے انہیں عالمی تنہائی کی دھمکی دی جائے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جب تک طالبان کی پشت پر چین کی غیر معمولی معاشی اور سفارتی طاقت موجود ہے،طالبان کو عالمی تنہائی کا شکار کرنا ناممکن نہیں تو کم ازکم مشکل ضرور ہوگا۔ جبکہ انہیں یہ بھی اندیشہ ہے کہ جوبائیڈن کی بے وقوفی سے طالبان رہنما مکمل طور پر چین کے بلاک میں بھی جاسکتے ہیں۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ طالبان کے بارے میں امریکا کی حکمت عملی جو بھی ہو، بہر حال یورپین یونین کے تمام ممالک سمیت بعض مغربی ممالک بھی اپنے اپنے طور پر طالبان سے براہ راست رابطے میں ہیں۔ یعنی امریکا اور بھارت کے علاوہ دنیا کا ہر ملک مستقبل میں طالبان کے ساتھ مضبوط سفارتی تعلقات کا خواہاں ہے۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ فی الوقت طالبان کے ساتھ سفارتی روابط بنانے میں چین دنیا کے ہر ملک پر بازی لے گیا ہے۔ دراصل چین اور طالبان کے فقط سیاسی،معاشی اور سفارتی مفادات ہی ایک جیسے نہیں ہیں بلکہ چینی قیادت کے بے شمار خواب بھی وہ ہیں، جن کی تعبیر اگر مستقبل قریب میں حاصل ہوجاتی ہے تو افغان عوام کی افغانستان کی تعمیر نو کا دیرینہ سپنا بھی من وعن پورا ہوجائے گا۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 20 ستمبر 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں