China And India War Second Round

چین اور بھارت کے درمیان جنگ کا دوسرا مرحلہ

بظاہر چین اور بھارت کے سفارتی ذرائع بین الاقوامی میڈیا کو ”سب اچھا ہوجائے گا“۔ کی رپورٹ گزشتہ دو ماہ سے مسلسل دے رہے ہیں لیکن حقیقت احوال یہ ہے کہ ابھی تک چین اور بھارت کے سرحدی محاذ پر ایسا کچھ بھی نہیں ہوسکا ہے جسے سفارتی لحاظ سے سب اچھا تو بہت دور کی بات ہے، صرف ”کچھ اچھا“ ہی قرار دیا جاسکے۔ چین کی جانب سے وادی لداخ میں بھارتی فو ج کی جبری بے دخلی کے واقعہ کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک کڑوا گھونٹ سمجھ کر اپنے حلق سے اُتارلیا تھا،اس موہوسم سی اُمید پر کہ چین وادی گلوان تک پیش قدمی کرنے کے بعد بھارتی سرحد کے جانب اپنے بڑھتے ہوئے قدم روک دے گا۔ لیکن چین کے بارے میں بھارتی قیادت نے جتنے بھی اندازے قائم کیئے تھے وہ ایک ایک کر کے غلط ثابت ہوتے جارہے ہیں۔ اَب اسے آپ بھارتی پالیسی سازوں کی ناکامی کہیں یا پھر چین کے بارے میں برتی جانے والی روایتی بھارتی ”عسکری غفلت“۔بہرحال چین کے بھارتی سرحد کی جانب بڑھتے ہوئے قدم رکنے کے بجائے مزید تیزی کے ساتھ آگے کی جانب بڑھتے ہی جارہے ہیں۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اَب چین کے نشانے پر معروف بھارتی سرحدی ریاست ارونا چل پردیش آچکا ہے۔ جس کے بارے میں چین کی وزارت خارجہ نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ ”ارونا چل پردیش چین کے علاقہ تبت کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس پر بھارت کسی بھی قسم کا حقِ ملکیت نہیں رکھ سکتا“۔ چین کے اِس دعوی نے بھارتی قیادت کے خطہ میں برسوں سے جاری توسیع پسندانہ عزائم کو شدید نوعیت کا دھچکہ پہنچایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: چینی کم، مٹھاس زیادہ

دلچسپ بات یہ ہے کہ ارونا چل پردیش کے سرحدی علاقہ میں چین اور بھارت کے مابین 45 برس کی طویل ترین مدت کے بعد آپس میں فائرنگ کے تبادلہ کا واقعہ بھی پیش آیاہے۔حالانکہ چین اور بھارت کی سرحد کے درمیان یہ ہی وہ منفرد سرحدی علاقہ تھا جہاں کسی بھی نازک ترین صورت حال میں فائرنگ نہ کرنے کا معاہدہ برسوں قبل چین اور بھارت کے مابین طے پایا تھا۔ لیکن 45 سال بعد اِس علاقہ میں فائرنگ کی گونج نے اس معاہدہ کے حصہ،بخیہ اُڈھیڑ کر رکھ دیئے ہیں اور دونوں طرف کے سرحدی علاقوں، خاص طور پر بھارتی سرحد کے ساتھ بسنے والے مکینوں کو دہلا کر رکھ دیاہے اور اَب اِن سرحدی علاقوں میں رہنے والی بھارتی عوام کی جانب سے بھی حفظِ ماتقدم کے طورپر جنگی تیاریاں کی جانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ بھارتی سرحد سے متصل سرحدی علاقہ کے مکینوں کا اصرار ہے کہ ”اُن کی حکومت امن آتشی اور نارمل حالات کے بارے میں جتنے چاہے راگ الاپتی رہے لیکن وہ بخوبی جانتے ہیں کہ چینی افواج بھارتی سرحد کے ارد گرد یوں ہی جمع نہیں ہوئی ہے۔اَب یقینا چینی افواج بہت جلد بھارت کے اندر بھی عسکری کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے“۔ یعنی چین اور بھارت کی سرحدوں پر رہنے والے اَن پڑھ،گنوار اور جاہل لوگ مستقبل میں چینی عسکری کارروائی کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں لیکن بھارتی قیادت اپنی ملک کی عوام کو میڈیا کے ذریعے مسلسل یہ دلاسے دینے میں مصروف ہے کہ وادی لداخ اور ارونا چل پردیش میں حالات مکمل طورپر اُس کے کنٹرول میں ہیں اور حالات تیزی کے ساتھ امن و امان کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ جبکہ زمینی حقائق میڈیا پر کیئے جانے والے بھارتی دعووں کے یکسر برعکس کچھ اور ہی چغلی کھارہے ہیں۔
یاد رہے کہ چین کی سرحد کے ساتھ منسلک بھارتی ریاست ارونا چل پردیش کو بھارتی قیادت جنگی اعتبار سے ہمیشہ سے ایک محفوظ ریاست تصور کرتی آئی ہے کیونکہ اِس ریاست کا تمام تر مواصلاتی انتظام بھارت کے انتظامی و عسکری اداروں کے پاس ہی رہاہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ گزشتہ ایک سے ماہ سے مسلسل چین، ارونا چل پردیش کے اردگر د بھاری تعداد میں گولہ بارود اور عسکری تنصیبات منتقل کرتا جارہاہے۔

چینی لبریشن آرمی کی ارونا چل پریش کے اردگرد وسیع پیمانے پر تعیناتی سے سرحدی کشیدگی اس وقت اپنی انتہائی حدوں کو چھورہی ہے۔ جس کا ہلکا سا اندازہ روز بہ بروز اس سرحدی علاقہ میں ہونے والے فائرنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتاہے۔ اس سرحدی علاقہ میں ہونے والے فائرنگ کے حالیہ واقعات کے بارے میں چین کی جانب سے سرکاری طورپر کہا گیا ہے کہ ”فائرنگ کے واقعات میں بھارتی افواج براہ راست ملوث ہے اور انہوں نے جان بوجھ کر اپنی فائرنگ کا نشانہ چینی افواج کو بنانے کی کوشش کی ہے،جس کا بھرپور انداز میں بھارت کو جواب دے دیا گیا ہے۔اس یاددہانی کے ساتھ کہ چین ارونا چل پردیش پر اپنے دعوی سے کسی صورت دست بردار نہیں ہوگا اور بھارت کو ایک انچ بھی چینی علاقہ میں پیش قدمی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی“۔ چین کے سفارتی ذرائع کی طرف سے جاری ہونے والے اس طرح کے سلگتے ہوئے بیانات بھارت کے خلاف چین کے عسکری عزائم کو بھرپور انداز میں واضح کرتے ہیں۔ چین کے جانب سے پے درپے جاری ہونے والی سفارتی بیانات میں چھپی ہوئی آتش بے کنار کو دیکھنے کے بعد عسکری ماہرین کی ایک بڑی اکثریت بھی اَب تو یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ چین ارونا چل پردیش میں بھی بہت جلد بھارتی افواج کے خلاف ایک بڑی عسکری کارروائی کرنے کا سنجیدہ ارادہ رکھتاہے۔ حالانکہ اِس بار بھارتی افواج چینی افواج کے حملہ کو روکنے کے لیئے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔لیکن پھر بھی خدشات یہ ہی ظاہر کیئے جارہے ہیں اِس علاقہ میں موسمیاتی حالات کی تبدیلی بھی عسکری کارروائی کی شدت کو کئی گناہ تک بڑھا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ سرد موسم میں بھارتی افواج ہمیشہ ہی سے اپنی مخالف افواج کے لیئے ایک تر نوالہ ثابت ہوئی ہے۔جبکہ بھارت کے مقابلہ میں چینی افواج ایک پیشہ ورانہ سپاہ ہے جو ہر طرح کے سرد موسم میں کثیر المقاصد نوعیت کی عسکری کارروائی کرنے کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہے۔

بھارت کے لیئے اپنی ساری توجہ چین سے ملحقہ سرحد پر مرکوز رکھنا اس لیئے بھی ناممکن ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے بھارت بری طرح سے کورونا وائرس کے نرغے میں آیا ہوا ہے۔ اس وقت کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک میں بھارت کا شمار دوسرا نمبر پر ہوگیا ہے یعنی صرف امریکہ ہی وہ واحد ملک ہے جہاں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد بھارت سے زیادہ ہے۔ وگر نہ دنیا کے ہر ملک سے زیادہ کورونا وائرس کے مریض بھارت میں بڑی تیزی کے بڑھ رہے ہیں اور روزانہ کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کے حوالے سے بھارت نئے عالمی ریکارڈ بنا رہاہے۔ کورونا وائرس نے بھارت کی معیشت کو اوندھے منہ زمین پر دے مارا ہے اور وہ بھارتی معیشت جس کے بارے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی چند ماہ پہلے لہک لہک کر فرمایا کرتے تھے کہ ”اُن کے ملک کی معیشت 2030 تک دنیا کی تین بڑی معیشتوں میں سے ایک بن جائے گی“۔ آج وہی بھارتی معیشت کورونا وائرس کی ہلاکت خیزی کے باعث اپنی تاریخ کی نچلی ترین گراوٹ سے گزررہی ہے۔مثال کے طور پر بھارت کے اندر لاتعداد کھرب پتی کمپنیز نے مزید سرمایہ کاری سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ بھارتی حکومت کے خود جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون میں ختم ہونے والی سہ ماہی میں ملک کی معیشت میں تشویشناک حد تک مندی دیکھنے میں آئی ہے جو کہ گزشتہ 24سال میں معیشت کی بدترین سطح ہے۔پچھلے دو سال سے ملک میں بیروزگاری کی شرح 45برسوں میں سب سے زیادہ تھی اور معاشی نمو کی شرح گر کر 4.7فیصد تک آ چکی تھی۔ ملک میں پیداوار گر رہی تھی اور بینکوں پر قرضوں کا بوجھ بہت بڑھ چکا تھا۔

ایک انڈین تھنک ٹینک کے پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق بھارت بھر میں معیشت کچھ اس طرح سے گر رہی ہے کہ جیٹ ایئرویز بند ہو چکی ہے، ایئر انڈیا کو 7600کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ نیزبھارت سینچرنگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) جو بھارت کی نمبر ون ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی ہے اس کی 54000ملازمتیں ختم ہو چکیں ہیں،جبکہ ہندوستان ایروناٹکس (ایچ اے ایل) کے پاس ملازمین کو تنخواہ دینے کے لئے رقم نہیں ہے، پوسٹل ڈیپارٹمنٹ کو 15000کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا،اس کے علاوہ ملک میں دو ملین سے زیادہ گھر جو تیس بڑے شہروں میں بنائے گئے تھے،انہیں اَب خریدنے والا کوئی نہیں ہے۔ نیز ٹیلی کمیونی کیشن کی ایک بڑی کمپنی ”ٹاٹا ڈوکومو“ بینک کرپٹ ہو کر ختم ہو چکی،جبکہ سیمنٹ، انجینئرنگ کنسٹرکشن، رئیل اسٹیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایک بڑی کمپنی بند ہو چکی ہے۔

مزید پڑھیں: سُنتے ہو تو چین کی سُنیے

علاوہ ازیں ”آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن“ جسے بھارتی حکومت نے 1956ء میں قائم کیا تھا اور جس نے ملک بھر میں 11ہزار کلومیٹر پائپ لائن بچھائی ہے آج تاریخی زوال کا شکار ہے۔جبکہ ملک کا اندرونی قرضہ 500کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور ریلوے برائے فروخت ہے۔اس کے علاوہ لال قلعے تک کو کرایہ پر دے دیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ اور بہت سے تاریخی اثاثے بیچنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔نیز بھارت کی بڑی کار کمپنی موروتی کی پروڈکشن نہ ہونے کے برابر ہو چکی ہے کمپنی کی 55ہزار کروڑ نئی کاریں فیکٹریوں میں کھڑی ہیں ان کا خریدار کوئی نہیں ہے۔جبکہ ملک میں گڈز اینڈ سروسز ٹیکس 18فیصد سے بڑھ کر 28فیصد ہونے سے کنسٹرکشن انڈسٹری تباہی کا شکار ہے کئی بلڈرز خودکشیاں کر چکے۔ دوسری جانب انڈین ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے ادارے آرڈیننس فیکٹری بورڈ کے پاس اپنے ڈیڑھ لاکھ ملازموں کو تنخواہیں دینے کیلئے پیسے نہیں ہیں۔جبکہ ملک کے تمام بڑے ہوائی اڈے ایڈانی کمپنی کو بیچ دیئے گئے ہیں اور کیفے کافی ڈے ”سی سی ڈی“ کمپنی جس کے ملک بھر میں 1752کیفے تھے قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے اس کے چیئرمین وی جی سدھارتھ نے خودکشی کر لی ہے۔

کورونا وائر س کی مخدوش صورت حال،بھارتی معیشت کی ابتر حالت اور وادی لداخ،گلوان اور اروناچل پردیش میں اعصاب جمادینے والی سردی کی آمد کے ساتھ ہی چین اور بھارت کے مابین دو ماہ قبل شروع کی جانے والے جنگ کا دوسرا راؤنڈ شروع ہونے کو ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان جنگ کا یہ دوسرا مرحلہ بھارتی قیادت کے لیئے کس درجہ خوفناک اور بھیانک خواب میں تبدیل ہونے والا ہے، شاید ابھی برہمن قیادت کو اس کا کچھ اندازہ ہی نہیں ہے۔ بہرحال اندازہ ہو یا نہیں لیکن چین کے ہاتھوں ایک بڑی تباہی بھارت کے سرحدی علاقوں میں شروع ہوا ہی چاہتی ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 17 ستمبر 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں