Home Work Problems

کیا آپ کا بچہ ہوم ورک کرنے میں پریشان کرتا ہے؟

ہمارے ہاں تمام والدین کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ اُن کا بچہ تعلیمی میدان میں ہمیشہ اعلیٰ سے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرے جس کے لیئے وہ اپنے بچے کے لیئے اپنی مالی استطاعت سے بڑھ کر بہترین سے بہترین اسکول کا انتخاب کرتے ہیں،لیکن وہ ایک بات اکثر فراموش کردیتے ہیں کہ بچے کی تعلیمی میدان میں اعلیٰ کارکردگی کے پیچھے اسکول اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ اُن کا اپنا بھی ایک بہت اہم اور کلیدی کردار ہوتا۔جس طرح والدین اسکول اور اساتذہ سے اپنے بچے کے مستقبل کے حوالے سے بہت ساری اُمیدیں وابستہ کرلیتے ہیں بالکل ویسے ہی اساتذہ بھی والدین سے زیادہ نہیں تو چند ایک اُمید یں ضرور وابستہ رکھتے ہیں جن میں سے ایک بچے کا ہوم ورک ہوتا ہے۔ ہوم ورک آپ کے بچے کی تعلیمی قابلیت میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے۔اسکول میں اساتذہ اس لیئے بچوں کو ہوم ورک دیتے ہیں تاکہ بچے اسکول میں سیکھے ہوئے سبق کی گھر میں بھی خوب مشق کریں اور بچوں کو اُن اسباق میں کام کرنے کا بار بار موقع دیا جائے جن میں انہیں زیادہ وقت لگتا ہے،مشکل پیش آتی ہے یا اسکول سے باہر کے وسائل استعمال کرنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے جیسے چارٹس بنانا یا خصوصی اسائنمنٹ کی تیاری کرناوغیرہ۔بچوں کو ہوم ورک دینے ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ بچے کلاس کے باہر بھی منظم انداز میں کام کرنے کے عادی ہوجائیں۔جس طرح زندگی کے ہر شعبے میں بچوں کو اپنے والدین کی مدد درکار ہوتی ہے بالکل اسی طرح بچوں کو ہوم ورک مکمل کرنے کے لیئے بھی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں والدین اکثر بچوں کا ہوم ورک خود کر کے اُن کی مدد کرتے ہیں یہ ہرگز درست یا قابل تعریف رویہ نہیں ہے۔یہاں ہم آپ کو چند تجاویز دے رہے ہیں جن پر عمل کرکے آپ بچوں کے ہوم ورک کو اُن کے لیئے پہلے سے زیادہ آسان اور نتیجہ خیز بھی بنا سکتے ہیں۔

ہوم ورک کے لیئے جگہ اور وقت کا انتخاب
ہوم ورک کے لیئے جگہ تمام تر توجہ ہٹانے والی چیزوں سے پاک ہونی چاہیے۔ ہوم ورک کے دوران ٹی وی،کمپیوٹر یا موبائل فون وغیر ہ بچے کے ارد گرد نہیں ہونے چاہیں۔ان توجہ ہٹانے والی چیزوں سے بچے کا ہوم ورک کرنے کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے جس سے بچے ہوم ورک سے متنفر بھی ہوسکتے ہیں۔ہوم ورک کے دوران اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ آپ کے بچے کے پاس تمام چیزیں پینسل،ربڑ،شاپنر وغیرہ پہلے سے موجود ہوں۔اگر آپ ہوم ورک کے لیئے ایک وقت مقرر کریں گے تو اس سے نہ صرف بچوں میں وقت کی پابندی کا احساس پیدا ہوگا بلکہ ماہرین تعلیم کے مطابق یہ بچوں کے ہوم ورک میں آسانی اور دلچسپی کا باعث بھی ہوگا۔

مشکل ہوم ورک میں بچے کی حوصلہ افزائی کریں
اگر آپ کے بچے کو ہوم ورک کرنے میں مشکل پیش آئے تو بجائے اُسے ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے اُس کا حوصلہ بڑھائیں اور اُسے یقین دلائیں اگر وہ ذرا سی اور محنت کرے تو وہ باآسانی اس ہوم ورک کو مکمل کر لے گا۔بچوں کو ہوم ورک کرکے دینے سے ہمیشہ گریز کریں کیونکہ بچوں کو ہوم ورک کر کے دینے سے بچے کی اپنے اوپرخودانحصاری میں کمی آنے کے ساتھ ساتھ اس کی حوصلہ شکنی بھی ہوتی ہے۔بچے میں اس بات کا احساس جاگزیں ہوجاتا ہے کہ وہ اپنا ہوم ورک خود کرنے کی قابلیت اور صلاحیت نہیں رکھتا۔یہ احساس بچے کی تعلیمی کارکردگی کے لیئے زہر قاتل ہے۔
اساتذہ سے بات کریں
اگر آپ کو محسوس ہو کہ آپ کے بچے کو دیاجانے والا ہوم ورک زیادہ ہے یا آپ کے بچے کی استعداد کار سے مطابقت نہیں رکھتا تو آپ برائے مہربانی اپنے بچے کے اساتذہ سے اس سلسلے میں ضرور بات کریں تاکہ بچے کے اساتذہ آپ کے بچے کو اُس کی استعداد کار کے مطابق ہوم ورک دیں اور جس مضمون میں بچہ کو ہوم ورک کرنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اُسے وہ ہوم ورک بار بار دیا جائے تاکہ باربار ایک ہی ہوم ورک ملنے سے آپ بچے کی خوب مشق ہوسکے۔

بچے کو انعام دیں
اگر آپ کا بچہ ہوم ورک میں بہت زیادہ دلچسپی دکھائے اور اپنے ہوم ورک کو وقتِ مقررہ پر بالکل ٹھیک انداز میں مکمل کرے تو نہ صرف اس کی دل کھول کر تعریف کریں بلکہ اگر ہو سکے تو اسے کوئی چھوٹا سے تحفہ بھی لے کر دیں۔تاکہ آپ کا بچہ آئندہ بھی اسی شوق و ذوق کے ساتھ اپنے ہوم ورک کو مکمل کرے۔

ہوم ورک کے دوران وقفہ کریں
ہوم ورک کے دوران اپنے بچے کو وقفہ ضرور دیں تاکہ وہ تازہ دم ہوسکے اور اپنے اوپر سے کام کے دباؤ کو اُتار سکے۔ہوم ورک کے دوران وقفہ میں آپ اپنے بچے کو چپس،بسکٹس،اسنیکس یا کوئی شربت بھی دے سکتے ہیں اگر ایک سے زیادہ بچے ہوں تو انہیں آپ پانچ سے دس منٹ کے دوران کوئی چھوٹا سا کھیل کھیلنے کی اجازت بھی دے سکتے ہیں۔اگر آپ چاہیں تو اپنے بچے کو کوئی کہانی،واقعہ یا پہیلیاں بھی سنا سکتے ہیں۔اس سے بچہ ذہنی طور پر دوبارہ سے تروتازہ ہوکر بہتر طور پر اپنا بقایا ہوم ورک کرنے کے قابل ہوجائے گا۔

بچے کے گریڈ چیک کریں
آپ کا بچہ ہوم ورک میں کتنی دلچسپی لے رہا ہے یا آپ کی محنت بچے کے ہوم ورک میں کتنی نتیجہ خیز ثابت ہورہی ہے اس کا درست اندازہ آپ کو بچوں کے گریڈز باقاعدگی سے چیک کرنے سے ہی ہوسکتا ہے۔اسکول میں ہونے والے روزانہ اور ہفتہ وارٹیسٹوں کی رپورٹ کارڈ باقاعدگی سے چیک کریں کہ اُن میں آپ کا بچہ کس قسم کی کارکردگی کامظاہرہ کررہا ہے۔ہفتہ وار ٹیسٹوں کے رپورٹ کارڈز آپ کے بچوں کی کارکردگی کی سب سے بہترین عکاسی کرتے ہیں۔

ٹیوٹر کا انتخاب کریں
اگر درج بالا تمام نکات پر عمل پیرا ہوکر بھی آپ کا بچہ ہوم ورک میں بہترین کارکردگی یا دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر پار ہا تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آپ کے بچے کو بہت زیادہ اضافی توجہ کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں ایک اچھا ٹیوٹر آپ کے بچے کے لیئے بہترین معاون اور مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔آپ اب بغیر کسی تاخیر کے اپنے بچے کے لیئے ایک اچھے ٹیوٹر کا بندوبست کریں اس کے لیئے آپ کے بچے کے لیئے کلاس میں پڑھانے والے اساتذہ بھی بہترین انتخاب ہوسکتے ہیں کیونکہ ان اساتذہ سے آپ کا بچہ کافی حد تک پہلے ہی سے مانوس ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ قطعاً نہیں ہے کہ اسکول کے اساتذہ کے علاوہ آپ کو اچھے ٹیوٹر دستیاب نہیں ہوسکتے بلکہ اگر آپ اپنے ارد گرد ہی ایک ناقدانہ نظر دوڑائیں تو ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کو اپنے خاندان یا پڑوس میں سے ہی ایک بہترین اور اپنے بچے سے مانوس ٹیوٹر باآسانی مل جائے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ27 اگست 2017 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں