Mardam Shumari in Pakistan

مردم شماری پر سندھ کی سیاسی جماعتوں کے اعتراضات

پورے 19 سال کے طویل عرصہ کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر حکومتِ پاکستان نے نہ چاہتے ہوئے بھی انتہائی بددلی کے ساتھ ملک بھر میں مردم شماری کا انعقاد کیا۔جس میں افواجِ پاکستان نے اپنی سابقہ روایات کے بالکل عین مطابق اپنے سپہ سالار قمر جاوید باجوہ کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے بھرپور جذبے اور انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں اس مردم شماری کے پورے عمل کو مکمل کر کے ایک اہم قومی فریضہ انجام دیا۔جس کے لیئے پاک فوج کے کئی جوانوں کو اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا۔بجائے اس کے کہ سیاسی جماعتیں اتنے طویل عرصہ کے بعد اس مردم شماری کے انعقاد پر سپریم کورٹ آف پاکستان اور پاکستانی افواج کے شکر گزار ہوتے کہ انہوں نے اس اہم ترین قومی فریضہ کی طرف نہ صرف ان کی توجہ مبذول کروائی بلکہ اس کے انعقاد کو بہ حسن و خوبی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے تمام وسائل سے حکومتی ادروں کی مدد بھی کی۔لیکن جیسا کہ سیاسی جماعتوں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے،خود بھی کوئی کام نہیں کرنا اور کسی دوسرے کو بھی نہیں کرنے دینا۔ اپنی اسی روش کو حسبِ دستور برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے مردم شماری کے پورے عمل کو ہی متنازعہ بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور اس کے نتائج تسلیم کرنے سے کلیتاً انکار کردیا۔ بات صرف اس حد تک ہی رہتی تو بھی خیر تھی لیکن سندھ میں تو دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے مردم شماری کی آڑ لے کر پاکستان کے مقتدر اداروں کو بھی ہدفِ تنقید بنانا شروع کردیا ہے۔ سندھ کی دونوں بڑی جماعتوں کا مردم شماری پر ایک ہی موقف ہے کہ سندھ کی آبادی ایک خاص سازش کے تحت کم ظاہر کی گئی ہے اور اپنے اس موقف کو ان جماعتوں کی طرف سے سندھ کے گلی کوچوں میں کچھ اس طرح سے پیش کیا جارہا ہے کہ لوگوں میں وفاق اور وفاقی اداروں کے خلاف نفرت کے جذبات اُبھارے جاسکیں۔حیر ت کی بات تو یہ ہے کہ مردم شماری کاحکم دینے والوں اور اس کا انعقاد کرنے والے ادروں پر تنقید کرنے والی دونوں سیاسی جماعتوں نے کبھی اپنے دورِ حکومت میں مردم شماری کروانے کا سوچا بھی نہیں،اگر پاکستان کی یہ جماعتیں بروقت مردم شماری کے انعقاد میں سنجیدہ ہوتیں تو کسی غیر سیاسی ادارے کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ حکومت کے کاموں میں مداخلت کرکے مردم شماری کے مشکل کام کا بیڑا اُٹھاتا۔یعنی ایک کام خود بھی نہیں کرنا ہے اور اگر دوسرا کرے تو اُسے سازشی قرار دے کر متنازعہ بنا دیا جائے۔
سندھ کی دو نوں بڑی سیاسی جماعتوں کے اعتراضات کے برعکس معاشی ماہرین کی اکثریت مردم شماری کے نتائج سے مطمئن نظر آتی ہے اُ ن کا کہنا ہے کہ کراچی اور لاہور دونوں میں نقل مکانی ہوئی ہے۔ لاہور میں جس قسم کی ترقی ہوئی ہے وہاں نقل مکانی کی وجہ سمجھ آتی ہے اور یہ نقل مکانی پنجاب کے دیہی علاقوں سے ہوئی ہے۔جبکہ کراچی میں جو نقل مکانی ہوتی رہی ہے وہ آبادی خیبر بختونخواہ،باجوڑ،سوات اور دیگر علاقوں سے ہوئی ہے جہاں روزگار کے مواقع بالکل بھی نہیں ہیں یا جہاں گزشتہ چند برسوں سے جنگ کی صورتحال بدستور قائم ہے۔اس کے علاوہ گزشتہ دس سالوں میں کراچی سے بھی بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے جس کی بنیادی وجہ امن و امان کی خراب صورتحال،قبضہ مافیا،بھتہ مافیا کا راج اور ٹارگٹ کلنگ جیسے سماج دشمن عناصرکے ہاتھوں نقصان کا خوف جیسے عوامل شامل ہیں اور یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھی نہیں ہے کہ کراچی شہر میں قائم بڑے بڑے کارخانے اور فیکٹریاں یہاں کی سیاسی بدمعاشیہ اور بھتہ خوری کے عفریت کے ہاتھوں تنگ آکر ملک کے دوسرے شہروں میں منتقل ہوگئی ہیں۔جب کہ ابھی تک کراچی میں لسانی فسادات اور ہنگاموں کے ڈر کی وجہ سے لوگ آنے سے کترارہے ہیں اور یہ ہی کچھ صورتحال اندرونِ سندھ کی بھی ہے گزشتہ دس سالوں کے دوران اندرونِ سندھ میں بھی اس قسم کی معاشی سرگرمیاں دیکھنے میں نہیں آئیں کہ جس سے لوگوں کے لیئے روزگار کے وسیع پیمانے پر مواقع پیدا ہوئے ہوں۔اس لیئے اگر کسی کو بھی مردم شماری کے نتائج پر اعتراض ہیں تو وہ ایک سینسس بلاک کو لے اور اپنا سینس کرلے اور پھر اس کا موازنہ وہ حکومتی ادروں کی طرف سے دئیے گئے اعدادوشمار سے کرلے اگر وہ ثابت کر پائے کہ اتنے گھروں کو شمار ہی نہیں کیا گیا تو پھر وہ ایک موثر اعتراض کر سکتے ہیں وگر نہ دوسری صورت میں اعتراضات کی نوعیت کو پیش ِ نظر رکھ کر یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ صرف عمومی نوعیت کے اعتراضات ہیں جنہیں نمایاں کرنے کا مقصد سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے ساتھ ساتھ اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا خمیازہ دوسرے اداروں کے سر تھوپنے کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا۔
کیا ہی بہتر ہوتا کہ سندھ حکومت مردم شماری کے نتائج کی روشنی میں سندھ کے عوام کی بنیادی ضروریات ِ زندگی کی فراہمی کے لیے اپنے وسائل کو بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ خرچ کرنے کے لیئے انتہائی جامع اور نتیجہ خیز منصوبہ جات بناتی۔لیکن افسوس سندھ کی بڑی سیاسی جماعتوں چاہے اُن کا تعلق حکومت سے ہو یا پھر اپوزیشن سے اُن کے نزدیک عوامی خوشحالی کے کرپشن فری منصوبے بنانا کبھی بھی ترجیحِ اول نہیں ہوتے۔انہیں مفادِ عامہ کے ہر کام سے زیادہ سیاسی شور و غوغا کرنا زیادہ پسند ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 05 اکتوبر 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں