Pakistani Economy

پاکستانی معیشت کا پہلا غسلِ صحت

وزیراعظم پاکستان عمران خان جب سے منصبِ اقتدار پر فائز ہوئے ہیں،اُس وقت سے لے کر اَب تک جس میدان میں اُنہیں اور اُن کی حکومت کو مخالفین کی جانب سے سب سے زیادہ اور مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے وہ ”پاکستانی معیشت“ ہے۔ چونکہ تحریک انصاف وطن عزیز پاکستان کی دگرگوں معاشی حالت کو بہتر بنانے کے دعویٰ کے ساتھ اقتدار میں آئے تھی۔ اِس لیئے پہلے دن سے تحریک انصاف حکومت کے حامیوں اور مخالفوں نے پاکستانی معیشت میں انقلابی تبدیلی اور بہتری کی بہت سی اُمیدیں باندھ لیں تھیں۔ بلاشبہ حکومتی اُمید وں کو ساتویں آسمان تک پہنچانے میں کچھ عمل دخل عمران خان کے اُن دعووں کا بھی تھا جس کے مطابق اُنہوں نے اپنی حکومت کے پہلے100 دنوں میں ہی پاکستانی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا اعلان داغ دیاتھا۔یہ سیاسی اعلان بالکل ایسے ہی تھا جیسے کوئی طبیب مریض کے مرض کی درست تشخیص کیئے بغیر اپنی تجویز کی گئی فقط چند خوراکوں سے ہی اُس کے صحت یاب ہونے کا دعوی کر بیٹھے۔

یقینا ایسا مریض مقررہ وقت پر صحت یاب نہ ہونے کے باعث طبیب سے لڑائی جھگڑا تو کرے گا ہی۔ بس یوں سمجھ لیجئے وزیراعظم پاکستان عمران بھی پاکستانی معیشت کے مرض کو ابتداء میں عام سا کوئی نزلہ،زکام یا پھر موسمی سا بخار سمجھ بیٹھے اور پھر وہی ہوا جیسا کہ میر تقی میر صاحب نے فرمایا تھا کہ ”مرض بڑھتا گیا،جوں جوں دوا کی“اورجیسے جیسے وقت گزرتا گیا بے چارہ مریض اپنے علاج اور طبیب دونوں سے پریشان ہوتا گیا۔لیکن اچھی بات یہ ہوئی کہ مریض نے اپنے طبیب سے علاج کرانا ترک نہ کیا۔جبکہ طبیب نے بھی مرض کو دُور کرنے کے لیئے اپنی مخلصانہ کوشش میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔یوں مریض اور طبیب کی مستقبل مزاجی نے آج یہ دن دکھایا ہے کہ مریض اپنی جان کنی کی کیفیت سے باہر نکل آیا ہے اور اِس کا مرض آہستہ آہستہ روبہ علاج ہے۔ یعنی پاکستانی معیشت کو درست سمت گامزن کرنے کے جس مشکل سفر کا آغاز وزیراعظم پاکستان نے ڈیڑھ سال قبل شروع کیا تھا۔ اَب اُس میں میں کامیابی کے واضح آثار نظر آنا شروع ہورہے ہیں۔



جس کا ثبوت عالمی معاشی درجہ بندی کے معروف ادارے موڈیز انویسٹرز سروس کی پاکستان کی معیشت سے متعلق جاری ہونے والے تازہ ترین رپورٹ ہے جس میں پاکستان کے معاشی منظر نامے (آؤٹ لک) کو منفی سے بی تھری مستحکم کر دیا گیا ہے۔آؤٹ لک میں یہ تبدیلی ادائیگیوں میں توازن، پالیسی ایڈجسٹمنٹ کی حمایت اور کرنسی کی لچک کے باعث سامنے آئی ہے۔ جبکہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے پاکستان، بھارت سے بہتربن چکا ہے کیونکہ حکومت پاکستان نے بین الاقوامی ادائیگیوں کی صورتحال بہتر کی ہے اور ایسے ہی بے شمار مثبت اقدامات کی بدولت پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کے آثار نمایاں ہورہے ہیں۔رپورٹ میں اِس بات کا بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ پالیسی اقدامات اور دیگر وجوہات کی بناء پر ادائیگیوں کے توازن میں بہتری کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے اور مستبقل میں درآمدات میں ہونے والی یہ کمی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی جبکہ بجلی کے جاری منصوبوں کی تکمیل سے بھی پاکستان کی درآمدات میں کمی آئے گی اور بجلی کی پیداوار میں ڈیزل کی بجائے کوئلہ، قدرتی گیس کے استعمال اور پن بجلی کی پیداوار کی وجہ سے بتدریج تیل کی درآمدات بھی کم ہوں گی۔

موڈیز کا یہ بھی کہناہے کہ پچھلے 18 ماہ کے دوران ایکسچینج ریٹ میں ردوبدل کی وجہ سے برآمدات میں بتدریج اضافہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کی بنیادی وجہ ہے۔تحریک پاکستان کی حکومت ملک کی تجارتی مسابقت بڑھانے کے لئے زبردست اقدامات کر رہی ہے اور حال ہی میں نیشنل ٹیرف پالیسی تیار کی گئی ہے جس کا مقصد برآمدات کے لئے سہولیات مہیاء کرنا ہے۔ اگر تجارت کے تناظر میں بہتری کے لئے اقدامات اِسی رفتار سے کئے جاتے رہے تو اس سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ موڈیز نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو مضبوط بنانے اور کرنسی میں لچک پیدا کرنے سمیت پالیسی اقدامات سے بیرونی معاشی خطرات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پچھلے کچھ ماہ کے دوران سات سے آٹھ ارب ڈالر کے لگ بھگ رہے ہیں جو کہ دو سے اڑھائی ماہ تک اشیاء کی درآمد کے لئے کافی ہیں۔ موڈیز نے توقع ظاہر کی ہے کہ مالی سال 2019-20ء میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 8.6 فیصد کے لگ بھگ رہے گا جو کہ 2018-19ء میں 8.9 فیصد تھا اور اسے 2021-23ء تک تقریباً 7 فیصد تک لایا جائے گا۔ جی ڈی پی کے تناسب سے حکومت کا ریونیو بڑھنے کا امکان ہے۔

ملکی معیشت کے پیدا شدہ دگرگوں حالات میں یہ حوصلہ افزا صورت حال خوش قسمتی سے اس وقت سامنے آئی ہے جب وزیراعظم پاکستان عمران خان مشکل ترین سیاسی بحرانوں سے گزر رہے ہیں۔بلاشبہ یہ خبر تحریک انصاف کی حکومتی کارکردگی کی دھاک عوام کے دلوں میں زوردار انداز میں بٹھائے گی جبکہ معاشی اشاریوں میں بہتری سے وزیراعظم پاکستان کے سیاسی اعتماد میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگا۔ گزشتہ ماہ کے دوران یکے بعد دیگرے پاکستان کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے نکل جانے کی خبر نے اسٹاک ایکسچینج کا 100انڈکس سات ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچادیا، زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں ایک ارب سولہ کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا اور اب وزارتِ تجارت نے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں ان کے مطابق نومبر 2019میں ملکی برآمدات 9.6فیصد اضافے کے ساتھ 2.02ارب ڈالر اور درآمدات میں 3.815ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔

پاکستانی عوام کے لیئے یہ نہایت حوصلہ افزا صورت حال ہے جو تاریخ میں اس سے پہلے بہت کم دیکھنے کو آئی، تاہم یہ رجحان عارضی نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کے لئے عمران کی حکومت نے اپنے قیام کے بعد سے اب تک کا عرصہ کڑی آزمائش میں گزارا تاہم بعض زمینی حقائق ایسے ہیں جو آنے والے وقت میں درآمدات و برآمدات کے فرق کو کم سے کم کرنے میں مدد دیں گے۔ یکم دسمبر سے موثر ہو جانے والے پاک چین فری ٹریڈ معاہدے کے دوسرے مرحلے کوبھی ماہرین معاشیات پاکستان کی معاشی صورت حال کے لیئے نہایت خوش آئند قرار دے رہے ہیں جس کے تحت 313نئی پاکستانی مصنوعات صفر ڈیوٹی کے ساتھ چینی مارکیٹ میں امپورٹ ہوں گی۔جس سے ہماری برآمدات میں ایک ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے جبکہ آنے والی درمیانی مدت کے تناظر میں پاکستان کی برآمدات چار سے پانچ ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ اس حوصلہ افزا صورت حال کے پیش نظر حکومت سے یہ توقع کرنا بے جا نہ ہوگا کہ اُس نے عوام کے معاشی حالات بہتر بنانے میں اب تک تو جو بھی تدابیر اختیار کی تھیں اَب ایک ایک کر کے اُن کا ثمر عوام کو ملنے کا وقت آگیا ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 09 دسمبر 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں