Prejudice in Pakistan

تعصب کی دال

سندھ کے باسیوں کے لیئے اچھی اور سندھ دھرتی کے دشمنوں کے لیئے بُری خبر یہ ہے کہ آج کل سندھ میں ”تعصب کی دال“ گل نہیں رہی ہے،کہنے کو گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی میں ”تعصب کی دال“ پکانے کے لیئے ایم کیوایم کے ایک رہنما کی طرف سے ہنڈیا کے نیچے دھیمی دھیمی آنچ کا بھرپور اہتمام کیا گیالیکن جب بات نہ بنی تو پھر ایک پی پی رہنما کی جانب سے بھی ”تعصب کی دال“ کو تیز آنچ پر پکانے کی اپنی سی خوب کوشش کی گئی مگر سب کے لاکھ جتن و مشقت کے باوجود ”تعصب کی دال“ گل نہ سکی۔35 سالوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب سندھ میں ”تعصب کی دال“ پکانے میں اتنی زیادہ مشکل پیش آرہی ہے،ورنہ اس سے پہلے تو”تعصب کی دال“ کی ہنڈیا کے نیچے بس نفرت کی آگ سلگانے کی دیر ہوا کرتی تھی اور چند سیکنڈوں میں ہی”تعصب کی دال“ میں ایسا اُبال آجاتا تھاکہ شہرِ کراچی کی ہرگلی تعصب کی بو سے سڑانڈ مارنے لگتی تھی اور پھر جب تک اس تعصب کی بو سے 15 سے 20 معصوم اور بے گناہ شہری لقمہ اجل نہ بن جاتے تھے،یہ”عذاب ناک بُو“ شہرِ کراچی کی فضا سے ختم نہ ہوتی تھی۔
تاریخ گواہ ہے کہ تعصب کی اس مسموم فضا نے کراچی کو اتنا زیادہ نقصان پہنچایا کہ روشنیوں کا شہر کہلانے والا”کچرے کا شہر“بن گیا، لوگوں کو روزگار فراہم کرنے والا شہر ”ہڑتالوں کا شہر“ بن گیا،ایک دوسرے میں محبت بانٹنے والا شہر ”قاتلوں کا شہر“ بن گیا،سمند ر کا ہمدم و دیرینہ ساتھی سمجھے جانے والا شہر ”پیاس کا شہر“بن گیا اور حد تو یہ ہوئی کہ پورے ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے والے اس شہر ِبے مثال کی اپنی باگ دوڑ ”لندن“ کے دست ِ جہالت میں چلی گئی۔یہ وہ وقت تھا جب یہاں دن میں بھی تاریکی کے بھیانک سائے راج کرتے تھے اور روشنی منہ چھپائے پھرتی تھی،ہر گلی،محلہ میں موت کا بول بالا تھا اور زندگی سسک سسک کر اپنی سانسیں پوری کررہی تھی، جہالت کا طوطی نقار خانہ میں سب سے بلند آواز تھا اور علم اپنی رسوائی دیکھ کر کسی کونے میں ایک لمبی چپ سادھ بیٹھاتھا،نااُمیدی کی خبروں سے صبح کے تمام اخبارات بھرے ہوتے تھے اور اُمید صرف شام کے اخبار میں کبھی کبھار تلاشِ گمشدہ کے اشتہار میں دکھائی دیتی تھی۔مگر وہ کہتے ہیں ناکہ و قت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا اور ہر مشکل کے بعد آسانی بھی ضرور آتی ہے۔ویسے بھی ہمارا ایمان ہے کہ یہ دنیا کسی شیطان نما انسان نے نہیں بلکہ صاحبِ قدرت خدا نے بنائی ہے اور وہی اس کا سب سے بہتر انتظام و انصرام چلانے والا ہے۔ خدائے یکتا اپنے مظلوم و لاچار بندوں پر روا رکھے جانے والے ظلم و جبر سے ذرا غافل نہیں، پس کائنات کے عظیم الشان رب نے سندھ کے عوام کی پکار بھی سُن لی اور تعصب کے عفریب سے لڑنے کے لیئے ریاستی اداروں کے ہاتھوں میں ایک معجزاتی عصائے موسوی تھمادیا، عصائے موسوی کا ریاستی اداروں کے دستِ قدرت میں آنے کی دیر تھی کہ ریاستی اداروں نے کراچی کی فضا میں ایسا الہامی منتر پڑھ کر پھونکا کہ کراچی کی آب و ہوا”تعصب“ کے لیئے مکمل طور غیر موزوں ہوگئی۔
اب نہ شہرِ کراچی کی زمین میں تعصب کی فصل اُگ رہی ہے اور نہ ہی تعصب کے خود رو کانٹے پیدا ہورہے ہیں کیونکہ عوام تعصب کے کالے جادو سے پوری طرح آزاد ہوچکے ہیں اور ِان پر پوری طرح منکشف ہوچکا ہے کہ عصبیت کے تو معنی ہی اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لینا ہے اور تعصب سے بڑھ کوئی گمراہی نہیں۔سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اسلام اور تعصب ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے یعنی یا تو ایک انسان صاحبِ ایمان ہوگا یا پھر ”تعصب“ کا غلام۔ قران مجید میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ ”اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے بنایا اور تمہیں مختلف قومیں اور خاندان بنایا، تاکہ تم محض ایک دوسرے کو پہچان سکو، اللہ تعالی کے نزدیک تم میں سب سے بڑا پرہیزگار وہ ہے جو زیادہ تقویٰ والا ہے، بلاشبہ اللہ تعالی خوب جاننے والا اور پوری خبر رکھنے والا ہے“۔نیز ایک حدیثِ رسول میں حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا“جس نے عصبیت کی دعوت دی وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس نے عصبیت پر قتل کیا اور جو عصبیت پر مرا وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ کیاان آیات واحادیث کو جان لینے کے بعد بھی کسی سندھی پنجابی، بلوچی،مہاجر اور پختون مسلمان کے لیئے ذرہ برابرگنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ وہ تعصب کی بنیاد پر اپنی سیاست کو فروغ دے یا کسی متعصب سیاسی رہنما کا آلہ کار بنے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے 15 جون1948ء کوئٹہ میں ایک تقریر کے دوران فرمایا تھا کہ:”ہر شخص کو اپنے گاؤں، قصبے اور شہر سے محبت ہونی چاہئے اور اس کی بہبود اور ترقی کے لئے محنت کرنی چاہئے،بڑی اچھی بات ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے ملک سے اپنے قصبے یا شہر کی نسبت زیادہ محبت ہونی چاہئے اور ملک کی خاطر نسبتاً زیادہ لگن اور زیادہ شدت سے محنت کرنی چاہئے۔ جب مَیں پاکستانیوں کے کسی گروہ یا جماعت کو صوبائی عصبیت کی لعنت میں لپٹا ہوا دیکھتا ہوں تو مجھے قدرتی طور پر دکھ ہوتا ہے۔پاکستان کو اس لعنت سے جلد از جلد نجات حاصل کر لینی چاہئے۔یہ اس پرانے نظم و نسق کی باقی ماندہ نشانی ہے، جب آپ حاکمانہ کنٹرول یعنی برطانوی کنٹرول سے تحفظ حاصل کرنے کے لئے صوبائی خود مختاری اور مقامی آزادی عمل کے کمزور اور عارضی ستونوں سے چمٹا کرتے تھے، لیکن اب آپ کی اپنی مرکزی حکومت ہے،با اختیار مرکزی حکومت۔اب بھی انھی فرسودہ اصطلاحوں میں سوچتے رہنا اور انہی کمزور سہاروں سے چمٹے رہنا بہت بڑی غلطی ہے، خاص طور پر ایسی صورت میں کہ آپ کی بالکل نئی اور نو زائیدہ مملکت زبردست اور بے شمار اندرونی و بیرونی مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ایسے ہنگامی موقع پر مملکت کے وسیع تر مفاد کو صوبائی یا ذاتی مفاد کے تابع کرنے کا ایک ہی مطلب ہے۔۔۔خود کشی!“۔مجھے پورا یقین ہے کہ قائداعظم ؒ کے فرمودات کے عین مطابق سندھ کی عوام اب یہ خودکشی کرنے والے نہیں ہیں یعنی اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ تعصب کی گود میں پلنے والے جتنے چاہے مرضی جتن کرلیں لیکن اب کی بار ”تعصب کی دال“ کسی صورت بھی گلنے والی نہیں۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 04 اکتوبر 2018 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں