Black Magic of Sindh Government Against Karachi

سیاسی و انتظامی مفاہمت کا “کالا جادو”

پاکستان پیپلزپارٹی کافی عرصہ سے یہ دعوی کرتی دکھائی دیتی ہے کہ ”انہوں نے صوبہ سندھ میں لسانیات کی بنیاد پر ہونے والی سیاسی تقسیم کو ختم کرنے کے لیئے سندھ میں بسنے والے ہر زبان بولنے والے کے لیئے اپنی جماعت کے دروازے پوری طرح سے کھول دیئے ہیں اور کوئی بھی شخص چاہے وہ کسی بھی قوم یا قبیلہ سے تعلق رکھتا ہویا اُردو،پنجابی،بلوچی،سرائیکی،پشتو غرض کوئی بھی زبان بولتا ہو وہ باآسانی پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوسکتاہے“۔ بظاہر پاکستان پیپلزپارٹی کا یہ ”سیاسی دعوی“ کچھ اتنا غلط بھی نہیں ہے کیونکہ مفاہمت کے بادشاہ کہلائے جانے والے آصف علی زرداری نے واقعی گزشتہ کچھ برسوں سے پیپلزپارٹی سندھ میں دیگر اقوام کے ان گنت افراد کو اپنی جماعت میں اہم ترین عہدوں پر آنے کا خصوصی موقع فراہم کیا ہے۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: سونے کا آدمی

جس کی وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان پیپلزپارٹی،دیہی سندھ کے ساتھ ساتھ شہری سندھ کی عوام میں بھی کافی مقبول اور مضبوط ہوئی ہے اور اندرون سندھ کے اکثر شہروں میں اُن انتخابی نششتوں پر بھی پاکستان پیپلزپارٹی کے اُمیدوار تسلسل کے ساتھ کامیاب ہورہے ہیں جن پر ماضی میں ایم کیوایم یا دیگر سیاسی جماعتوں کے اُمیدوار کامیاب ہوا کرتے تھے۔ لیکن حیران کن طور پر پاکستان پیپلزپارٹی نے ”سیاسی مفاہمت“ کی یہ پالیسی کراچی میں اختیار نہیں کی۔جس کی وجہ سے کراچی کی سیاست اور پیپلزپارٹی کی سیاست میں گہری خلیج پائی جاتی ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے کراچی کے عوام ساتھ اپنے ”سیاسی تعلقات“ استوار کرنے کے لئے کبھی کوئی سنجیدہ کاوش بھی نہیں کی۔بلکہ اُلٹا سندھ حکومت نے اپنی حکومتی و انتظامی پالیسیوں سے اہلیانِ کراچی کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ اُن کے بغیر بھی سندھ حکومت بہت اچھی طرح سے چل سکتی ہے۔

ویسے تو سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کے ساتھ معاندانہ انتظامی رویہ رکھنے کی کئی ایک مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔لیکن گزشتہ ہفتے تو کراچی کی طالبات کے ساتھ جس طرح کے انتظامی تعصب کا اظہار کرنے والی خبر میڈیا کی زینت بنی،اُسے پڑھ کر اور سُن کر تو دل کو جو تکلیف اور صدمہ پہنچا شاید اُسے الفاظ بیان کرنا ممکن نہ ہوسکے۔ خبر یہ تھی کہ ”جامعہ پیپلز میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنس برائے خواتین نوابشاہ کی داخلہ پالیسی میں تین کروڑ کے شہر کراچی کی طالبات کے لیے میرٹ پر ایک نشست بھی مختص نہیں ہے اورجامعہ کے جاری کردہ داخلہ اشتہار میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے علاوہ پورے سندھ کے تمام اضلاع کی ڈومیسائل کی حامل طالبات جامعہ میں داخلے کے لیے رجوع کرسکتی ہیں لیکن کراچی کا ڈومیسائل رکھنے والی طالبات جامعہ میں داخلے کی اہل نہیں ہوں گی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جامعہ پیپلز میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنس برائے خواتین نوابشاہ داخلے کا یہ اشتہار واٹس اپ پر اتنی مرتبہ آگے بھیجا گیا ہے کہ اب اسے بیک وقت پانچ افراد کو بھیجنا ممکن نہیں رہا ہے اوراب اگر کوئی شخص اس اشتہار کو واٹس ایپ پر کسی کو بھیجنا چاہے تو وہ ایک وقت میں صرف ایک ہی شخص بھیج سکتاہے۔یاد رہے کہ کراچی کی طالبات کے ساتھ یہ اس لیئے بھی بہت بڑی زیادتی ہے کہ صوبہ سندھ میں خواتین کی صرف 2 ہی جامعات ہیں اور نواب شاہ کے بعد دوسری جامعہ سکھر یونیورسٹی برائے خواتین ہے لیکن اس جامعہ کی داخلہ پالیسی پورے پاکستان کے لیے یکساں ہے۔

واضح رہے کہ نواب شاہ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری کا آبائی شہر ہے اور کہا جاتاہے کہ سندھ حکومت چلائی ہی نواب شاہ کے زرداری ہاؤس سے جاتی ہے۔ ایسے میں اگر کراچی کے باسیوں کو معلوم ہو کہ نواب شاہ شہر کی ایک جامعہ میں داخلہ لینے کے لیئے اُن کی بچیوں پر باقاعدہ سرکاری اشتہار کے ذریعے پابندی لگادی گئی ہے۔اَب آپ خود ہی سوچ سکتے ہیں کہ اس تعصب زدہ خبر کو سُن کر اہلیانِ کراچی کے دلوں پر کیا گزری ہوگی۔ یاد رہے کہ جب جامعہ پیپلز میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنس برائے خواتین نوابشاہ کی داخلہ پالیسی پر ملک بھر کے میڈیا، خاص طور پر سوشل میڈیا میں سخت تنقید کے بعد اس داخلہ پالیسی کو کراچی کے ساتھ ناانصافی قرار دے کر میرٹ کا قتل عام ہونے کی دہائیاں دی جانے لگیں تو متعلقہ جامعہ اور سندھ حکومت کے حلقوں کی جانب سے وضاحتوں کا ناختم ہونے والا اور نامطمئن کرنے ہونے والا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔

پیپلز میڈیکل یونیورسٹی نوابشاہ کے رجسٹرار ڈاکٹر خان محمد بلو کا اس خبر سے متعلق موقف تھا کہ ”کراچی کی طالبات کی تبادلے کی بنیاد پر10 نشستیں مختص ہیں مگر میرٹ پر ایک بھی نشست نہیں ہے اور سندھ جناح میڈیکل یونیورسٹی اور ڈاؤ میڈیکل کی پانچ پانچ طالبات اگر چاہیں تو یہاں تبادلے کی بنیاد پر آسکتی ہیں۔ کیونکہ کراچی کی طالبات کو میرٹ کی بنیادپر نشستیں دینا ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ بظاہر ہم محکمہ بورڈز و جامعات کے ماتحت ہیں مگر ہمیں داخلہ پالیسی محکمہ صحت دیتا ہے“۔اس وضاحت کا سادہ سا مطلب یہ ہی لیا جاسکتاہے اگر کراچی کی کسی طالبہ کو جامعہ پیپلز میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنس برائے خواتین نوابشاہ میں پڑھنے کو شوق ہے تو اُسے یہاں کی جامعہ میں پڑھنے والی طالبہ کی منت،ترلے کرنا ہوں گے اگر اُسے رحم آگیا تو تبادلہ کی بنیاد پر کراچی کی طالبہ کو جامعہ پیپلز میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنس برائے خواتین نوابشاہ میں پڑھنا کو موقع مل سکتاہے۔ المیہ ملاحظہ فائدہ پھر بھی نواب شاہ کی جامعہ میں پڑھنے والی طالبہ کا ہی ہوگا۔ اسے آپ انتظامی و سیاسی تعصب کی بدترین مثال بھی کہہ سکتے ہیں۔

دوسری جانب لطیفہ ملاحظہ ہو کہ داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کراچی میں اندرون سندھ کے طلبہ کے لیے 50 فیصد اور شہری علاقوں کے لیے الگ سے 50 فیصد نشستیں مختص ہیں۔نیز جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی اندرون سندھ کی 46 اور ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی میں اندرون سندھ کی 23 نشستیں مختص ہیں۔صرف یہ ہی نہیں این ای ڈی یونیورسٹی میں بھی اندرون سندھ کے تعلیمی بورڈز کی بنیاد پر نشستیں مختص کی گئی ہیں جبکہ جامعہ کراچی میں بھی اندرون سندھ کے طلبہ کے لیے خصو صی اضافی نشستیں مختص کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ جامعہ کراچی کے21 ٹیسٹ والے شعبوں میں پورے سندھ کے طلبہ کے لیے داخلے کھلے ہیں۔ تاہم سب سے دلچسپ، انوکھی اور حیرت انگیز صورتحال لیاری میڈیکل کالج کی داخلہ پالیسی کی ہے جہاں 50 فیصد نشستیں کراچی کے لیئے اور باقی 50 فیصد اندرون سندھ کے طلبہ و طالبات کے لیئے مختص کرکے اہلیانِ کراچی کو خدا جانے سندھ حکومت کی جانب کونسی ”سیاسی و انتظامی مفاہمت“ کا سبق پڑھایا جارہا ہے،ہم تو سمجھنے سے یکسر قاصر ہیں اگر آپ کو سمجھ میں آجائے تو اپنے تک ہی رکھیئے گا کسی کو مت بتائیے گا کیونکہ سچ بات کرنے سے صوبہ سندھ میں جاری سیاست کے مفاہمتی عمل کو نقصان بھی پہنچ سکتاہے۔
سُنا ہے ایک جادو ہے مفاہمت
یہ جادو ہے تو، اُلٹا پڑ رہا ہے

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 21 جنوری 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

3 تبصرے “سیاسی و انتظامی مفاہمت کا “کالا جادو”

اپنا تبصرہ بھیجیں