BISP and Sania Nishtar

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور سیاسی راجہ گدھ

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی معاونِ خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشترکون ہیں؟ اِن کی کتنی تعلیم ہے؟ اور وہ اَب تک دنیا کے کن کن معروف اداروں میں کیا کیا کارہائے نمایاں انجام دے چکی ہیں؟اِس بابت الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر تفصیل کے ساتھ بہت کچھ بتایا جاچکا ہے اور اس کے علاوہ بھی اگر کوئی اِن کے متعلق مزید کچھ جاننا چاہے تو وہ گوگل پر سرچ کرکے جان سکتاہے۔ اِس لیئے ہم بجائے یہ تکرار کرنے کہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کون ہیں؟ کیوں نا! آپ کو یہ بتادیں کہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر آخر ایسی کیوں ہیں؟ اور مستقبل قریب میں غریب و نادار افراد کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف کیاکچھ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں؟اور سب سے اہم بات یہ کہ پاکستان کی ساری اشرافیہ مل کر بھی آخر کیوں دھان،پان سی ثانیہ نشتر کا راستہ کھوٹا کرنے سے قاصر نظر آتی ہے؟۔اِن سب سوالوں کے جواب ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے14حرفی نام میں چھپے ہوئے ہیں۔یعنی محترمہ کو مکمل طور پر اسم بامسمی بھی کہا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر طبیب کو کہتے ہیں جس کاکام ہی مرض کا علاج کرنا ہوتا ہے۔ اور ثانیہ عربی زبان کے لفظ ثانی کی مونث ہے،جس کا مطلب دوسری، باریکی، برابر یا آن واحد ہے۔جبکہ نشتر اُس تیزدھار نوکیلے آلہ جراحی کو کہا جاتاہے، جس کی مدد سے کسی ناسور کو چیر پھاڑ کر جسم سے علحیدہ کیا جاتاہے۔ یعنی اِس لحاظ سے بس اتنا جان لیجئے کہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر وطنِ عزیز پاکستان کے لیئے خدا کی طرف سے بھیجی گئی ایک ایسی معالج ہیں جو آن واحد میں انتہائی باریکی سے معاشرتی ناسور کو چیر پھاڑ کر کے اُسے جڑ سے ختم کرنے پر پوری مہارتِ تامہ رکھتی ہیں اور بے شک انہوں نے اپنی اِس خداد اد صلاحیت کو ثابت بھی کیا ہے۔ وگرنہ بے انکم سپورٹ پروگرام کے اربوں روپوں کو ماہانہ چاٹ جانے والے سیاسی حمایت یافتہ ”راجہ گدھوں‘‘ کے بارے میں ہم کبھی جان ہی نہ سکتے تھے۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جسے 2008 میں پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں غریب، پسماندہ اور معاشی مسائل کا شکار پسے ہوئے طبقہ خصوصاً خواتین کو مالی مدد فراہم کرنے کے لیئے شروع کیا گیا تھا کے بارے میں 12 سال کے بعد انکشاف ہورہاہے کہ اس سرکاری پروگرام کے امدادی دسترخوان پر غریب اور نادار افراد کے لیئے رکھے گئے اربوں روپوں کو 8 لاکھ سے زائد سیاسی و انتظامی اثرورسوخ رکھنے والے ”راجہ گدھ“ ہر ماہ اپنے کام و دہن کی لذتوں کو بڑھانے کے لیئے استعما ل میں لارہے ہیں۔اگر ڈاکٹر ثانیہ نشترمداخلت نہ کرتی تو خدا جانے یہ ”راجہ گدھ“ اور اِن کے بچے کب تک غریبوں کے پیسوں کو اپنا حق اور سرکاری ضیافت سمجھ کر بڑے مزے سے بلاروک ٹوک کھاتے رہتے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر حملہ آور ”راجہ گدھوں“ کا سراغ لگانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اس مشکل اور بظاہر ناممکن سمجھے جانے والے کام کی تکمیل کے لیے بڑے متحرک انداز میں نادرہ اور دیگر ایجنسیوں اور ذرائع سے معلومات اکٹھی کر کے ان کی جانچ پڑتال کی،پھر ان معلومات کی بنیاد پر تجزیاتی رپورٹ مرتب کرنے کے بعد سب سے پہلے یہ رپورٹ بی آئی ایس پی کے اعلیٰ اختیاراتی بورڈ میں پیش کی گئی جہاں اس رپورٹ کے جملہ نکات پر تفصیلی اور سیر حاصل بحث ہوئی۔بعدازاں یہ رپورٹ تفصیلی جائزہ کے لیئے وفاقی کابینہ کے سامنے لائی گئی، جہاں کسی ایک رکن کابینہ نے بھی اس رپورٹ کے مندرجات سے اختلاف نہیں کیا۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رپورٹ کی تیاری میں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کتنی محنت اور دقتِ نظر سے کام لیا ہوگا۔



ڈاکٹر ثانیہ نشتر صاحبہ کی مرتب کی گئی رپورٹ کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں نقب لگانے والوں میں ایک لاکھ بیالیس ہزار ایک سو چھیانوے سرکاری ملازم یا ایسے افراد شامل ہیں جن کے شوہر یا بیوی سرکاری ملازم ہیں اوران سب کا تعلق وفاقِ پاکستان اور چاروں صوبوں سے ہے۔صرف گریڈ 17 سے گریڈ 21 کے 2 ہزار 543 اعلیٰ سرکاری افسران ایسے تھے جو اپنی بیویوں کے نام پر پیسے وصول کر رہے تھے۔ کچھ سرکاری افسران تو ایسے بھی تھے جنہوں نے دو شادیاں کیں ہوئی تھیں اور دونوں بیویوں کے نام پر باقاعدگی سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پیسے وصول کرتے تھے۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ 741 سرکاری افسران بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے اپنے گھرانوں کو مستفید کر رہے تھے۔اسی طرح گریڈ 21 کے تین افسران بھی غریبوں اور مسحق افراد کی فہرست میں شامل تھے۔ جن میں سے دو کا تعلق بلوچستان جبکہ ایک وفاق کا سرکاری ملازم تھا۔ لسٹ سے نکالے گئے گریڈ 19 کے افسران کی تعداد 429 ہے۔ سندھ میں گریڈ 18 کے 342 افسران نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھایا۔ اگر ان غیر مستحق افراد کو مزید ا یک برس تک بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی مدد دی جاتی تو قومی خزانے پر 16 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑتا۔ لیکن ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے فقط ایک مستحسن اقدام سے نہ صرف ملکی خزانے کی غیر معمولی نقصان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے حفاظت ہوگئی ہے بلکہ اگلے برس سے زیادہ مستحق افراد تک بے انکم سپورٹ پروگرام کی رقم پہنچانا بھی ممکن ہوسکے گا۔

دوسری جانب پاکستان کی کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں نے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے خلاف سیاسی پروپیگنڈا مہم پورے زور و شور سے شروع کردی ہے اور پاکستان کی سادہ لوح عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش جارہی ہے کہ جیسے تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بند کیا جارہاہے۔حالانکہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر مستقبل قریب میں اِس امدادی پروگرام کو”خاندانی کفالت“کے ایک مکمل پروگرام میں بدلنے کا ارادہ رکھتی ہیں کہ جس میں ہر غریب خاتون کو ماہانہ گھریلو اخراجات کے علاوہ علاج معالجے اور انشورنس کی اضافی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ اُمید ہے کہ اِن سہولیات کے اضافہ کے بعد جہاں اِس پروگرام سے مستفید ہونے والے گھرانوں کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی وہیں بعض جماعتوں کی طرف سے ڈاکٹر ثانیہ نشتر سے متعلق عوام کی آنکھوں میں ”سیاسی دھول“ جھونکنے کی جو مذموم کوشش کی جارہی ہے وہ بھی بری طرح سے ناکام ہوگی۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 10 فروری 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں