Bilawal In Action GB Elections 2020

بلاول کی جیت، پیپلزپارٹی کی ہار۔ ۔ ۔ آخر کب تک؟

گزشتہ چند ہفتوں سے بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی کارکردگی انتہائی شاندار رہی،خاص طور پر گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں جس طرح سے بلاول نے اپنی سیاست کا رنگ جمایا،وہ قابلِ تعریف ہی نہیں،قابلِ تقلید بھی ہے۔گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کو عوامی دلچسپی کے لحاظ سے بلاشک و شبہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اَب تک کے سب سے شاندار اور منصفانہ انتخابات قرار دیئے جاسکتے ہیں۔واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابی ماحول میں عوامی جوش و جذبہ کے جتنے رنگ ہم پاکستانیوں کو دکھائی دیئے،اُن میں سے بیشتر بلاول بھٹو زرداری کی ہی مرہونِ منت تھے۔گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں بلاول کی محنت اور دلچسپی حیران کن رہی بلکہ یوں سمجھ لیجئے کہ بلاول نے ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم میں دلچسپی لینے اورکچھ نیا کرنے پر مجبور کردیا۔ بالخصوص سندھ کے گرم اور معتدل موسم سے گلگت بلتستان کے سرد ترین ماحول میں دن اور رات کی پرواہ کیئے بغیر پے درپے انتخابی مہم چلانا قطعی آسان نہ تھا لیکن خوش قسمتی سے بلاو ل یہ مشکل ترین سیاسی کام بھی انتہائی آسانی اور سیاسی استقامت سے کرگزرے۔

یہ بھی پڑھیئے: بلاول ہاؤس کی بیرونی دیوار یا عوام دشمن دیواریں؟

یہ ہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابی معرکہ اختتام پذیر ہوچکا ہے مگر بلاول کی جوش و جذبہ سے بھرپور منفرد سیاست کے رنگین اثرات ابھی تک گلگت بلتستان کے سیاسی ماحول پر صاف ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ غالب گمان یہ ہی ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ حالیہ انتخابات کی ہر بات بھول جائیں گے لیکن بلاول کی انتخابی مہم انہیں مدتوں یاد آتی رہے گی۔ حالانکہ گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی محنت کی جائز ”سیاسی اُجرت“نہیں کہے جاسکتے مگر اس”انتخابی بے سروسامانی“ کا الزام بلاول بھٹو زرداری کو ہرگز نہیں دیا جاسکتا،کیونکہ گلگت بلتستان کے انتخابی معرکہ میں پاکستان پیپلزپارٹی کو شکست ضرور ہوئی ہے لیکن بہرحال بطور ایک سیاسی قائد بلاول بھٹو زرداری یہ انتخابی معرکہ جیت چکے ہیں۔ بلاول کی حالیہ انتخابی کارکردگی دیکھ کر بڑی شدت سے ریاض مجید کا یہ شعر یاد آرہا ہے کہ
میرا دکھ یہ ہے میں اپنے ساتھیوں جیسا نہیں
میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر ہوں

کاش! آج کی پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی بنائی ہوئی ایک سیاسی جماعت ہوتی تو انتخابی نتائج صرف گلگت بلتستان میں ہی نہیں بلکہ آئندہ ملک بھر میں بھی یکسر مختلف ہو نے کی اُمید رکھی جاسکتی تھی۔لیکن بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی کو سیاسی اقربہ پروری کے جتنے پیوند لگا دیئے گئے ہیں۔اس ”سیاسی سانحہ“کے بعد اس سیاسی جماعت کو پیپلزپارٹی تو کہا جا سکتا ہے مگر بلاول بھٹو زرداری کی پیپلزپارٹی کسی بھی صورت نہیں قرار دیا جاسکتا۔ مانا کہ پاکستان پیپلزپارٹی بلاول کو سیاسی وراثت میں حاصل ہوئی ہے،مگر اس کے ساتھ ہی بلاول کو ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو جیسی سیاسی شخصیات سے بیش بہا دیگر ”سیاسی خوبیاں“ بھی تو ورثہ میں ملی ہیں۔دو سیاسی وراثتوں کا حاصل ہونے والا حسین ”سیاسی امتزاج“ بلاول سے تقاضا کرتا ہے کہ اَب وہ پیپلزپارٹی کی ازسرنو تشکیل اُس سیاسی منشور کے عین مطابق کریں کہ جس کا سیاسی شعور انہیں قدرت کی طرف سے خاندانی طور پر ودیعت کیا گیا ہے اور اپنے اردگرد منڈلانے والے مفاداتی ٹولے کو پیپلزپارٹی سے نکال باہر پھینکیں۔کیونکہ پاکستان پیپلزپارٹی میں یہ ہی وہ ”مفاداتی ٹولہ“ ہے جس نے بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھ سے پاکستان کارڈ چھین کر سندھ کارڈ کا لولی پاپ تھمایا ہوا ہے۔

المیہ ملاحظہ ہو کہ گلگت بلتستان کے تقریباً سات لاکھ ووٹرز کے ساتھ گزشتہ چند دنوں میں ہی بلاول نے جس طرح کا مضبوط سیاسی تعلق قائم کرلیا ہے، بدقسمتی ایسا مستحکم سیاسی تعلق ایک کروڑ سے زائد ووٹرز رکھنے والے شہر کراچی کے ساتھ بلاول کو اَب تک قائم کرنے ہی نہیں دیا گیا۔ جبکہ سامنے کی بات ہے کہ اگر بلاول بھٹو زرداری کوکراچی شہر کے کروڑوں ووٹرز کی بھی عوامی محبت اور انتخابی طاقت میسر آجائے تو وطن عزیز پاکستان میں ایوانِ اقتدار کا کونسا ایسابند دروازہ ہے جسے بلاول آسانی سے کھول نہ سکے۔ مگر بلاول بھٹو زرداری کے گرد شہد کی مکھیوں کی طرح منڈلانے والا مفاداتی ٹولہ اپنی چند صوبائی وزارتوں کے لالچ میں بلاول کو سندھ کارڈ سے پرے کچھ دیکھنے ہی نہیں دیتا۔کیونکہ یہ ٹولہ بخوبی جانتا ہے کہ بلاول کا کا اصل ہدف وفاقی اقتدار ہے لیکن اس ٹولے کے لیئے سندھ کی وزارتیں ہی سب کچھ ہیں۔لہٰذا پیپلز پارٹی پر قابض یہ سیاسی گروہ اپنے ہدف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیئے بلاول کے ہدف کو ہمیشہ پس پشت ڈال دیتاہے۔بالکل اُس کمیشن ایجنٹ ملازم کی طرح ہے جو اپنے دو ہزار روپے کے کمیشن کے لالچ میں اپنے مالک کو دو لاکھ روپے کا بھاری نقصان خاموشی سے پہنچا دیتاہے۔

مزید پڑھیں: بلاول، نواز راضی ۔۔۔ پھر کیا کرے گا ماضی

کوئی کچھ بھی کہتا رہے بہرحال مستقبل میں ملکی سیاسی حالات بلاول کے لیئے جتنے سازگار اور موافق ہیں شاید ہی کسی دوسری سیاسی جماعت کے رہنما کے لیئے ہوں۔مثلاً بلاول کی عمر ابھی کم ہے۔ یعنی اُس کے پاس پرانی سیاسی غلطیاں درست کرنے اور نئے سیاسی کارہائے نمایاں انجام دینے کے لیئے وقت ہی وقت ہے۔نیز ملک دشمن بیانیے کے قیدی نوازشریف کی وجہ سے شریف خاندان کا سیاسی بوریا بستر گول ہوا ہی چاہتاہے،جس کے بعد پنجاب کی سیاست میں پیدا ہونے والا سیاسی خلا بلاول کے لیئے سیاسی موقع بھی ثابت ہوسکتاہے۔ سب سے بڑھ کر سندھ میں بانی ایم کیوایم کی عبرت ناک پسپائی نے دیہی سندھ میں نہیں شہری سندھ میں بھی بلاول کے لیئے سیاسی امکانات کی زمین مکمل طور پر ہموار کردی ہے۔ اَب اس پر کسی قسم کی سیاسی فصل اُگانی ہے یہ سب بلاول کی سیاسی دانش مندی پر منحصر ہے۔ بہرحال ایک بات طے ہے اس وقت بلاول کے اردگرد لسانی و سیاسی تعصب کے کیچڑ میں لتھڑے ہوئے جس طرح کے اتالیق موجود ہیں۔ان کے پاس تو فقط ببول اور کیکر کے ہی بیج موجود ہیں۔اگر انہیں تعصب زدہ بیجوں سے بلاول نے اگلی سیاسی فصل کا شت کرنے کا سوچا تو کچھ ہاتھ آنے والا نہیں ہے، سوائے ”سندھ کارڈ“ کے۔مگر اگر اپنی والدہ ماجدہ کی مانند بلاول نے بھی پاکستان پیپلزپارٹی کی ازسرنو تشکیل میں عالی دماغ، وسیع النظر اور وسیع القلب سیاسی افراد کو اگلی صفوں میں یعنی اپنے اردگرد جمع کرلیا تو پھر سیاسی مستقبل بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان پیپلزپارٹی دونوں کا ہی ہے۔ بصورت دیگر اگلے سیاسی معرکوں میں بھی بلاول کے جیتنے اور پیپلزپارٹی کے ہار جانے کے امکانات بالکل واضح ہیں۔لیکن آخر کب تک؟۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 19 نومبر 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں