Shab e Meraj HD Photo

شب معراج کی حقیقت، فضیلت اور افادیت کیا ہے؟

رجب المرجب اسلامی سال کا ساتواں مہینہ ہے۔حضرت سیدنا امام محمد غزالیؒ مکاشفۃ القلوب میں فرماتے ہیں“رجب”دراصل ترجیب سے نکلا ہے, اس کے معنی ہیں تعظیم کرنا اس کو اَلْاَحسبْ یعنی سب سے تیز بہاؤ بھی کہتے ہیں اس لیے کہ اس ماہِ مبارک میں توبہ کرنے والوں پر رحمت کا بہاؤ تیز ہو جاتا ہے اور عبادت کرنے والوں پر قبولیت کے انوار کا فیضان ہوتاہے۔ستائیس رجب وہ دن ہے، جس دن اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو رسالت عطاء فرمائی اور 27رجب کو ہی حضور اکرم ﷺ نے معراج کی سعادت حاصل کی۔معراج الٰہی کے بارے میں اس پر اتفاق رائے ہے کہ یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے لیکن اس کی صحیح تاریخ اور مقام کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ ایک روایت کے مطابق یہ واقعہ ربیع الاول کے مہینے میں پیش آیا لیکن زیادہ مستند روایت یہ ہے کہ معراج 27 رجب کی شب کو ہی ہوئی۔27 رجب کی شب کو ہونے والاواقعہ سفرِمعراج تاریخِ ارتقائے نسلِ انسانی کا وہ سنگِ میل ہے جسے قصر ایمان کا بنیادی پتھر بنائے بغیر تاریخِ بندگی مکمل نہیں ہوتی اور روح کی تشنگی کا مداوا نہیں ہوتا۔ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تاریخِ انسانی کا ایک ایسا حیرت انگیز، انوکھا اور نادر الوقوع واقعہ ہے جس کی تفصیلات پر عقلِ ناقص آج بھی حیران و ششدر ہے۔ اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ سفرِ معراج کیونکہ طے ہوا؟ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں معجزہ معراج خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ تاریخِ انبیاء کی ورق گردانی کی جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اپنے برگزیدہ رسولوں اور نبیوں کو اللہ رب العزت نے اپنے خصوصی معجزات سے نوازا۔

ہر نبی کو اپنے عہد، اپنے زمانے اور اپنے علاقے کے حوالے سے معجزات سے نوازا تاکہ ان کی حقانیت ہر فردِ بشر پر آشکار ہو اور وہ ایمان کی دولت سے سرفراز ہوسکیں۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے معجزات سے نوازا گیا جن کا مقابلہ تمام زمانوں کی قومیں مل کر بھی نہ کر سکتی تھیں۔ اللہ رب العزت کو معلوم تھا کہ امتِ محمدی چاند پر قدم رکھے گی اور ستاروں پر کمندیں ڈالے گی لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکان و لامکاں کی وسعتوں میں سے نکال کر اپنے قرب کی حقیقت عطا فرمائی جس کا گمان بھی عقل انسانی میں نہیں آ سکتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باقی تمام معجزات اور دیگر انبیاء و رسل کے تمام معجزات ایک طرف اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ معراج ایک طرف، تمام معجزات مل کر بھی معجزہ معراج کی ہمہ گیریت اور عالمگیریت کو نہیں پہنچ سکتے۔ واقعہ معراج انسان کو ہدایت اور ترقی و کامرانی کی راہوں پر گامزن کرتا ہے۔سفرِ معراج اپنے تین مراحل میں مکمل ہوا۔ سفرِ معراج کا پہلا مرحلہ مسجدُ الحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کا ہے۔ یہ زمینی سفر ہے۔سفرِ معراج کا دوسرا مرحلہ مسجدِ اقصیٰ سے لے کر سدرۃ ُالمنتہیٰ تک ہے۔ یہ کرہ ارضی سے کہکشاؤں کے اس پار واقع نورانی دنیا تک سفر ہے۔جبکہ سفرِ معراج کا تیسرا مرحلہ سدرۃ ُالمنتہیٰ سے آگے قاب قوسین اور اس سے بھی آگے تک کا ہے۔

مستند ترین احادیث کی روشنی میں واقعہ معراج کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ حضرت جبریل ؑ سب سے پہلے آپؐ کو چاہِ زم زم کے پاس لے گئے۔ سینہ مبارک کو چاک کیا اس میں سے قلبِ اطہر نکالا اسے زم زم کے پانی سے دھویا۔ پھر آپؐ کے قلب کو ایمان و حکمت سے بھر دیا اور دل دوبارہ اصل جگہ پر رکھ کر سینہ برابر کر دیا۔ شقِ صدر کے اسی قسم کے واقعہ کی ایک روایت آپؐ کے بچپن کے بارے میں بھی ملتی ہے لیکن ممتاز اور مستند علمائے اسلام کے ایک گروہ نے اس روایت کو قبول نہیں کیا ہے۔ اور یہ رائے ظاہر کی ہے کہ مستند روایات کے مطابق شقِ صدر کا واقعہ صرف ایک بار ہوا اور وہ معراج کے وقت ہوا۔ مفکر اسلام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے لکھا ہے کہ سینہ مبارک چاک کرنا، دل کو نکالنا پھر اسے ایمان و حکمت سے بھر کے اصل جگہ پر رکھنا یہ سب تمثیلی انداز بیان ہے۔ حقیقت میں کیا ہوا؟ یہ نہ کہا جا سکتا ہے، نہ سمجھا جا سکتا ہے۔ تمثیلی پیرائے میں فقط یہ بتایا گیا ہے کہ حضوؐر کے قلب کو انوارِ الٰہیہ سے پُر کر دیا گیا تاکہ آپؐ میں اس سفر کے آئندہ مراحل اور مناظر کی استعداد پیدا ہو جائے۔ براق پر سواری شقِ صدر کے بعد جبریل ؑ نے حضوؐر کی سواری کے لئے براق پیش کیا۔ بَرّاق، لفظ برق سے ماخوذ ہے۔ اس سواری کی رفتار بجلی کی مانند تیز تھی۔ اس لئے اسے براق کہا گیا۔ برق کی شرح رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے اور روایات میں کہا گیا ہے کہ براق ایسی تیز رفتار سواری تھی کہ جہاں حدِ نظر ختم ہوتی تھی وہاں اس کا پہلا قدم پڑتا تھا۔ انبیاء اور ملائکہ کی امامت حضوؐر براق پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچے اور اس مقام پر اترے جس کو آج کل ”بابِ محمدؐ“ کہا جاتا ہے۔ آپؐ براق سے اتر کر مسجدِ اقصیٰ میں تشریف لے گئے۔یہاں تمام انبیاء اور ملائکہ نے استقبال کیا اور پھر افضل الانبیاء کی امامت میں تمام انبیاء اور ملائکہ نے دو رکعت نماز ادا کی۔ مسجد اقصیٰ سے باہر نکلے تو جبریل ؑ نے آپؐ کے سامنے دودھ اور شراب کے دو پیالے پیش کئے۔ آپؐ نے دودھ کا پیالہ اٹھا لیا۔ اس پر جبریل ؑ نے کہا کہ ”آپؐ نے فطرت کو اختیار کیا“۔ زمین سے آسمان تک کا سفر حضوؐر نے جبریل ؑ کی معیت میں کیا۔ بعض روایات میں ہے کہ براق کو تو آپؐ نے بیت المقدس ہی میں چھوڑ دیا اور آسمان سے ایک مرصع سیڑھی نمودار ہوئی تھی۔ آپؐ اس کے ذریعہ حضرت جبریل ؑ کے ساتھ آسمان پر گئے۔ اس زینے کے بارے میں جو روایات ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا”وہ زینہ جس کے ذریعے بنی آدم کی روحیں بعدازمرگ چڑھتی ہیں اور اس زینے سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز مخلوق کی نظر سے نہ گزری ہو گی اور میرے رفیقِ سفر جبریل ؑ نے مجھ کو اس پر چڑھایا یہاں تک کہ میں آسمان کے دروازے تک پہنچ گیا“۔

صحیح مسلم میں جو روایت ہے اس میں براق یا زینے کا کوئی ذکر نہیں صرف یہ ہے کہ ”جبریل ؑ مجھ کو لے کر آسمان پر گئے“۔جب حضوؐر پہلے آسمان پر پہنچے تو دیکھا ایک بزرگ دائیں جانب دیکھتے تو ہنستے، بائیں جانب دیکھتے تو روتے اور حضوؐر کو دیکھ کر فرمایا”مرحبا!مرحبا! اے فرزند صالح مرحبا!“ فرشتوں نے تعارف کرایا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں۔ ان کی دائیں جانب اہل جنت ہیں۔ بائیں طرف اہل دوزخ۔ پہلے آسمان پر حضوؐر نے نہرِ کوثر بھی دیکھی جس کے کناروں پر جواہر کے محل بنے ہوئے تھے، اور جس کی مٹی مشک کی طرح خوشبودار تھی۔ یہ نہر کوثر اللہ نے آپؐ کے لئے مخصوص کر رکھی ہے۔ آپؐ نے کہا کہ اس کا پانی دودھ سے زیادہ مفید تھا، اور میں نے نہر کوثر کا پانی پیا۔ دوسرے آسمان پر حضوؐر کی ملاقات حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ اسلام سے ہوئی۔ تیسرے آسمان پر حضرت یوسفؑ حضوؐر سے ملے۔ چوتھے آسمان پر حضرت ادریسؑ نے آپؐ سے بات چیت کی۔ پانچویں آسمان پر حضرت ہارونؑ اور چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام ملے۔ انہوں نے حضورؐ سے کہا ”آپ کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ جنت میں جائیں گے“۔ ساتویں آسمان پر سرورکائناتؐ کی ملاقات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی۔ ساتویں آسمان کے بعد آپؐ کو جنت کی سیر کرائی گئی۔ پھر یہاں سے آگے بڑھ کر سرور کونین سدرۃ المنتہیٰ (انتہاء کی بیری کا درخت) پر پہنچے۔ یہاں جبریل ؑ اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوئے اور کہا کہ اب اس مقام سے آگے جانا میری طاقت سے باہر ہے۔ آپؐ تنہا بڑھیے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر امر الٰہی کا پرتو تھا۔ وہ جب اس درخت پر چھا گیا تو اس کی ہیئت بدل گئی اور اس میں انوارِ الٰہی نے حسن کی وہ شان پیدا کی کہ اس کا بیان کرنا ممکن نہیں۔

یہ درخت فرشتوں کی آخری حد ہے اس سے آگے وہ جا نہیں سکتے۔ اس لئے اسے منتہیٰ کہا گیا۔ یہاں سے حضوؐر حجابات و کیفیات کی منازل سے گزر کر خالق سے ہم کلام ہوئے اور نورالٰہی کو دیکھا۔ بارگاہِ رب العزت سے اس موقع پر حضوؐر کو عطیات مرحمت کئے گئے۔ ایک سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں جن میں اسلام کے رہنما اصول بیان کئے گئے تھے جو اسلامی معاشرہ کے لئے ضروری ہیں۔ ساتھ ہی اس میں یہ خوشخبری تھی کہ اب آپؐ کی ابتلا کا دور ختم ہو گیا۔ آپؐ نئے دور اور نئے معاشرے کی بنیاد رکھیں گے۔ نماز پنجگانہ کی فرضیت ہے جو پہلے تو پچاس فرض کی گئی تھیں لیکن حضوؐر کی درخواست پر پانچ کر دی گئیں اور ثواب پچاس ہی کا رکھا گیا۔ معراج سے واپسی کے بعد آپ ﷺ نے اُمّ ہانیؓ سے اپنے سفرِ معراج کا تذکرہ فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ آپ قریش سے اس کا ذکر نہ کریں۔ وہ مذاق اڑائیں گے۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا”میں ضرور ان سے یہ تذکرہ کروں گا۔ میرا رب سچا ہے اور جو کچھ میں نے دیکھا ہے وہ بھی عین سچ ہے“۔ اور جب حضوؐر نے معراج کا تذکرہ قریش سے کیا تو وہ ہنسنے لگے اور مذاق کرنے لگے۔ حضرت ابوبکرؓ سے جب کہا گیا لو دیکھو تمہارے محمدؐ کہہ رہے ہیں کہ وہ رات ہی رات میں بیت المقدس بھی ہو آئے ہیں تو انہوں نے کہا ”اگر محمدؐ کہتے ہیں تو یہ ٹھیک ہے۔ میں تو اس سے بھی زیادہ پر ایمان رکھتا ہوں کہ فرشتے ان کے پاس آتے ہیں“۔ اسی لئے حضرت ابوبکرؓ کو ”صدیق“ کہا گیا۔

شب معراج کی عبادت اور ستائیسویں تاریخ کے روزہ کی فضیلت
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا”ماہِ رجب میں ایک ایسادن اور ایک ایسی رات ہے کہ جس نے اس دن روزہ رکھا اور اس رات قیام کیا گویا اس نے سو 100 سال روزہ رکھا اور سو100 سال شب بیداری کی اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے“۔سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ”ماہ رجب میں ایک ایسی رات ہے جس میں عمل کرنے والے کے حق میں سو 100 سال کی نیکیاں لکھی جاتی ہیں،اور وہ رجب کی ستائیسویں شب(شب معراج) ہے،تو جو شخص اس رات بارہ رکعات پڑھتا ہے، اس طرح کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور قرآن کریم کی کسی سورت کی تلاوت کرے،ہردورکعت کے بعدقعدہ کرے‘اخیرمیں سلام پھیرے۔ پھر نمازسے فارغ ہونے کے بعدسو100 مرتبہ ” سُبْحَانَ اللَّہِ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ،وَلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَر”، سو100 مرتبہ ” استغفار ”، سو100 مرتبہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر درود شریف بھیجے، اور اپنے حق میں دنیا اور آخرت کی بھلائی سے متعلق جو چاہے دعا کرے اور صبح روزہ رکھے تو یقینا اللہ تعالی اس کی تمام دعائیں قبول فرمائے گا البتہ کسی نافرمانی والے کام میں دعانہ کرے(تو یہ دعاء مقبول نہ ہوگی)۔

شبِ معراج کی خاص دُعائیں
اللَّہُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی۔
ترجمہ:ائے اللہ! تو بہت معاف فرمانے والاہے، اور معافی کوپسند کرتاہے‘ پس مجھے معاف فرمادے۔

اللَّہُمَّ أَصْلِحْ لِی دِینِیَ الَّذِی ہُوَ عِصْمَۃُ أَمْرِی وَأَصْلِحْ لِی دُنْیَایَ الَّتِی فِیہَا مَعَاشِی وَأَصْلِحْ لِی آخِرَتِی الَّتِی فِیہَا مَعَادِی وَاجْعَلِ الْحَیَاۃَ زِیَادَۃً لِی فِی کُلِّ خَیْرٍ وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَۃً لِی مِنْ کُلِّ شَرٍّ-
ترجمہ: ائے اللہ! میرے دینی امور کو درست فرمادے جو میرے معاملہ کی حفاظت کا ذریعہ ہیں اور میری دنیا درست فرمادے جس میں میری معیشت ہے‘میری آخرت درست فرمادے جہاں مجھے لوٹنا ہے‘ میری زندگی کو میرے لئے ہر بھلائی میں زیادتی کا ذریعہ بنا‘اور میری موت کو میرے لئے ہر مصیبت سے راحت کا سبب بنا۔

اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْہُدَی وَالتُّقَی وَالْعَفَافَ وَالْغِنَی-
ترجمہ: ائے اللہ! میں تجھ سے ہدایت تقویٰ پاکدامنی اورخوشحالی مانگتا ہوں۔

اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی وَعَافِنِی وَارْزُقْنِی-
ترجمہ: ائے اللہ! مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت عطافرما‘مجھے عافیت سے نواز دے‘اورمجھے روزی عطافرما۔

سید الاستغفار
اللَّہُمَّ أَنْتَ رَبِّی لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِی وَأَنَا عَبْدُکَ وَأَنَا عَلَی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوء ُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَأَبُوء ُ لَکَ بِذَنْبِی فَاغْفِرْ لِی فَإِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص کامل یقین کے ساتھ اس سید الاستغفار کو دن میں پڑھے اور اگررات ہونے سے قبل اسی دن انتقال کرجائے تو وہ اہل جنت میں سے ہوگا،اور جو رات میں پڑھے اور صبح ہونے سے قبل انتقال کرجائے تو وہ اہل جنت میں سے ہوگا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 12 اپریل 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں