Ramadn Kareem

رمضان المبارک، برکت اور سعادت سمیٹنے کا مہینہ

ماہ رمضان برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس ماہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسی پاک مہینے میں ہوا، رمضان المبارک کی فضیلت اور اس کے تقاضے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس ماہِ مبارک کی اپنی طرف خاص نسبت فرمائی ہے۔ عربی زبان میں رمضان کا مادہ رَمَضٌ ہے، جس کا معنی سخت گرمی اور تپش ہے۔رمضان میں چونکہ روزہ دار بھوک و پیاس کی حدت اور شدت محسوس کرتا ہے اس لئے اسے رمضان کہا جاتا ہے۔ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ رمضان رمضاء سے مشتق ہے اس کا معنی سخت گرم زمین ہے لہٰذا رمضان کا معنی سخت گرم ہوا۔ رمضان کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جب عربوں نے پرانی لغت سے مہینوں کے نام منتقل کئے تو انہیں اوقات اور زمانوں کے ساتھ موسوم کر دیا۔ جن میں وہ اس وقت واقع تھے۔ اتفاقاً رمضان ان دنوں سخت گرمی کے موسم میں آیا تھا۔ اس لئے اس کا نام رمضان رکھ دیا گیا۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرہ عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے، رمضان کی اہمیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺسے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے آپ ﷺ کی اُمت کو جہنم میں ہی جلانا ہوتا تو رمضان کا مہینہ کبھی نہ بناتا۔جب رمضان المبارک کا چاند نظر آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ”یہ چاند خیر و برکت کا ہے‘ یہ چاند خیر و برکت کا ہے، میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا“۔

یہ بھی پڑھیئے: ڈیجیٹل رمضان کریم

حضرت جبرائیل علیہ سلام نے دعا کی کہ ہلاک ہوجائے وہ شخص جس کو رمضان کا مہینہ ملے اور وہ اپنی بخشش نہ کرواسکے، جس پر حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا آمین! حضرت جبرائیل علیہ سلام کی یہ دعا اوراس پر حضرت محمد ﷺ کا آمین کہنا اس دعا سے ہمیں رمضان کی اہمیت کو سمجھ لینا چاہئے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ رمضان کی جب پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنوں کو بند کردیا جاتا ہے جبکہ دوزخ کے دروازے بھی بند کردیئے جاتے ہیں اور بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے اے نیکی کے طالب آگے بڑھ کہ نیکی کا وقت ہے اور اے بدی کے چاہنے والے بدی سے رک جا اور اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھ کیونکہ یہ وقت گناہوں سے توبہ کرنے کا اور ان کو چھوڑنے کا ہے اور خدا تعالیٰ کے لیے ہے۔

روزہ وہ عظیم فریضہ ہے جس کو رب ذوالجلال نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اور قیامت کے دن رب تعالیٰ اس کا بدلہ اور اجر بغیر کسی واسطہ کے بذات خود روزہ دار کو عنایت فرمائیں گے۔حدیث مبارک میں ہے کہ”رمضان ایسا مہینہ ہے کہ اس کے اول حصہ میں حق تعالیٰ کی رحمت برستی ہے، جس کی وجہ سے انوار و اسرار کے ظاہر ہونے کی قابلیت و استعداد یپدا ہوکر گناہوں کے ظلمات اور معصیت کی کثافتوں سے نکلنا میسر ہوتا ہے اور اس مبارک ماہ کا درمیانی حصہ گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے اور اس ماہ کے آخری حصہ میں دوزخ کی آگ سے آزادی حاصل ہوتی ہے“۔حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی علیہ السلام کو نہ ملیں۔پہلی یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت فرمائے اسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔تیسرے یہ کہ فرشتے ہر رات اور دن ان کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔چوتھے یہ کہ اللہ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ”میرے (نیک) بندوں کے لئے مزین ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے۔

رمضان المبارک کی عظمت و شان کی وجہ سے رمضان المبارک میں کئے ہوئے عمل کا اجر بھی بڑھا چڑھا کر دیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح ماہ رمضان میں نافرمانی کی سنگینی دیگر ایام میں کی ہوئی نا فرمانیوں سے زیادہ ہوتی ہے، اس لیے ہر مسلمان کو یہ ماہ مبارک غنیمت سمجھنا چاہیے اس کیلیے نیکیاں کرے، عمل صالح بجا لائے اور گناہوں سے باز رہے، اللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ اس کی نیکیاں قبول فرمائے اور اسے حق بات پر استقامت نصیب فرمائے، تاہم برائی رمضان میں کی جائے یا غیر رمضان میں اس کے اندر اضافہ نہیں کیا جاتا گناہ ایک ہی رہتا ہے، جبکہ نیکی کا ثواب دس گنا سے بڑھا کر کئی گنا کر دیا جاتا ہے“۔اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رمضان اور غیر رمضان میں نیکیوں کے اندر ہونے والا اضافہ مقدار اور معیار دونوں سے تعلق رکھتا ہے، مقدار میں اس طور پر کہ نیکی کی تعداد دس گنا سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے، اور معیار میں اس طور پرکہ نیکی کا ثواب بڑھ جاتا ہے، جبکہ نا فرمانیوں میں اضافہ صرف معیار کے اعتبار سے بڑھتا ہے، یعنی نافرمانی کی سزا اور اس کا گناہ بڑھ جاتا ہے۔

اسی طرح رمضان میں عمرہ کرنے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ”رمضان میں ایک عمرہ حج کے برابر ہے یا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے“۔جبکہ ایک اور حدیث یہ بھی ہے کہ:”لوگو! تم پرایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہے، یہ ایسا مہینہ ہے جس کی ایک رات ہزار ماہ سے بھی بہتر ہے، اللہ تعالی نے اس ماہ کے روزے فرض قرار دیے ہیں اور اس کی راتوں کے قیام کو نفل قرار دیاہے، جو شخص اس ماہ میں کوئی نفل عبادت کرتا ہے تو اس ماہ کی نفل عبادت دیگر مہینوں کی فرض عبادت سے بھی بہتر ہو گی، اور جو شخص اس ماہ میں فریضہ ادا کرے تو یہ فریضہ دیگر مہینوں کے ستر فرائض سے بھی افضل ہو گا“۔ابو بکر بن ابو مریم اپنے اساتذہ سے ذکر کرتے ہیں کہ وہ کہا کرتے تھے کہ ”جب ماہ رمضان شروع ہو جائے تو گھر میں کھلا خرچہ کیا کروکیونکہ اس ماہ میں خرچہ کرنا فی سبیل اللہ خرچ کرنے کے برابر ہے اور اس ماہ میں کی ہوئی تسبیح دیگر مہینوں کی تسبیحوں سے ہزار گنا بہتر ہیں“۔اسی طرح نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”رمضان کے ایک دن کا روزہ دیگر ایام کے ہزار دنوں سے بھی بہتر ہے، اسی طرح رمضان میں ایک تسبیح یا رکعت ہزار تسبیحوں اور رکعتوں سے بہتر ہے“۔

علماء کرام نے رمضان المبارک کے استقبال اور تیاری کے لیے بہت سی اہم ہدایات اور تجاویز بیان فرمائی ہیں،جن کا جاننا ہر مسلمان مرد اور عورت کے لیئے بے حد ضروری ہے۔ اگر آپ بھی ان اہم ترین نکات پر عمل پیرا ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ رمضان المبارک کی برکتیں اور سعادتیں بھرپور انداز میں آپ کو حاصل نہ ہوسکیں۔

آمد رمضان سے قبل فرائض وواجبات کی ادائیگی کا اہتمام کریں، سابقہ زندگی کی تمام لغزشوں پر سچی توبہ کریں دل کو گناہوں اور برے خیالات سے پاک کریں،آنکھ،کان، زبان، ہاتھ، پاؤں اور دل و دماغ غرض جسم کے کسی بھی حصے سے صادر ہونے والے گناہوں پر پکی توبہ کریں تاکہ آپ گناہوں سے پاک ہوکر رمضان المبارک کا استقبال کریں۔

یہ بھی ضرور پڑھیں: شب معراج کی حقیقت، فضیلت اور افادیت کیا ہے؟

قطع رحمی یعنی رشتے ناطے توڑنا بہت بڑا گناہ ہے، قطع رحمی کی وجہ سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں، لہذا رمضان میں اس سنگین گناہ سے توبہ اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ ”اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ قطع رحمی یعنی رشتے ناطے توڑنے کا معاملہ کیا جائے تب بھی وہ صلہ رحمی کرے“۔

رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے، لہذا اپنے آپ کو لمبی دعاؤں کا عادی بنائیں، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ رمضان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعاؤں کے الفاظ زبانی یاد کیے جائیں، مسنون الفاظ پر مشتمل دعاؤں میں تاثیر بھی زیادہ ہوتی اور قبولیت کا امکان بھی۔

رمضان کے مہینے میں روزانہ کچھ نہ کچھ ضرور صدقہ کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ سال کے باقی ایام میں بھی سخاوت کرنا آسان ہوجائے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم سب لوگوں میں زیادہ سخی تھے اور رمضان المبارک میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جودوسخا تیز چلتی خوشگوار ہوا سے بھی زیادہ ہوجاتی“۔

رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے خوش قسمت لوگ اس ماہ میں تلاوت کی کثرت کا معمول بناتے ہیں لہذا تلاوت قرآن کو زیادہ وقت دینا شروع کریں تاکہ آپ کثرت سے تلاوت کرنے کے عادی بن جائیں۔
رمضان میں اوقات کی قدردانی بڑی اہم ہے، آج کل انٹرنیٹ وسوشل میڈیا وقت کے ضیاع کا بڑا سبب بن رہے ہیں، لہذا رمضان میں ان کے استعمال کو ختم یا محدود کرنے کی کوشش کریں، امام مالکؒ ودیگر اسلافؒ کا تو یہ تک معمول تھا کہ رمضان آتے ہی علمی مجالس بھی موقوف فرمادیتے اور تلاوت قرآن میں مشغول ہوجاتے۔
ٹی وی خرافات کا مجموعہ ہے لہذا رمضان المبارک میں اس سے جان چھڑانے کی کوشش کریں ٹی وی پر رمضان نشریات کے نام پر اکثر پروگرام غیر شرعی اور ایک آدھ دینی پروگرام درست بھی ہو تو اسے بنیاد بناکر ٹی وی کے سامنے وقت ضائع کرنا ہوشمندی نہیں۔

رمضان المبارک میں اپنا نظام الاوقات مرتب کریں، جس میں صبح اٹھ کر تہجد، ذکر، دعائیں، سحری، نماز فجر اور تلاوت سے لے کر افطاری، تراویح ودیگر معمولات تک کے لیے مناسب وقت متعین ہو اور نیند و آرام کی بھی بھر پور رعایت رکھی جائے۔

رمضان المبارک میں نوکر وملازمین سے محنت طلب اور مشکل کام نہ لیں تاکہ روزے کی حالت میں ملازمین پر کام کا بوجھ ہلکا رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”جو شخص رمضان کے مہینے میں اپنے غلام (خادم،ملازم) کے بوجھ کو ہلکا کردے تو حق تعالیٰ شانہ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور اسے آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں“۔

عموما ہمارا دل مسجد میں نہیں لگتا، لہذا رمضان کے ابتدائی دنوں میں ہی نماز کی ادائیگی کے بعد کچھ دیر مسجد میں نفلی اعتکاف کی نیت سے ٹھہریں اور مسجد میں دل لگانے کی مشق کریں تاکہ رمضان کے آخری عشرے کے مسنون اعتکاف میں بیٹھنا آسان ہوجائے۔

سگریٹ، نسوار، پان ودیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال ابھی سے محدود کریں اور کوشش کریں کہ ان سے جان چھڑالی جائے تاکہ روزے کی حالت میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، رمضان المبارک نشہ آور اشیاء سے جان چھڑانے کا بہترین موقع ہے اوراس میں ہمت، حوصلہ اور اللہ سے مدد مانگتے ہوئے ان آفات سے باآسانی جان چھڑائی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: شب قدر کی عظیم الشان فضیلت اور سعادت

رمضان میں تقاریب، ملاقاتوں اور دعوتوں کا سلسلہ بھی محدود کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں صرف ہوسکے، البتہ بیمار کی عیادت اور تیمارداری اسی طرح میت کی تجہیز وتکفین اور نماز جنازہ میں شرکت کے مواقع جتنے مل سکیں، غنیمت سمجھیں۔

اس رمضان کو گذشتہ سے ممتاز کریں اور کسی ایسی عبادت کی ترتیب بنائیں جو آپ کے نامہ اعمال میں اس رمضان کو گذشتہ رمضانوں سے ممتاز کردے مثلا: تیسواں پارہ زبانی یاد کرلیں، یا سورۃ رحمٰن، سورۃ یسین، سورۃ الملک، سورۃالم سجدہ زبانی یاد کرلیں، یا کسی یتیم کو ڈھونڈ کر اس کی کفالت کا بندوبست کرلیں، یا جیلوں میں قید لوگوں کی تعلیم وتربیت کی ترتیب بنائیں، یا پانی کی اشد ضرورت ہو تو ٹیوب ویل، کنواں یا ٹھنڈے پانی کا پلانٹ لگوادیں، یا مساجد ومدارس کے ساتھ پر خلوص تعاون کریں، یا مستحق طلبہ کے لیے فیسوں اور یونیفارم وغیرہ کا بندوبست کرلیں، یا کسی غریب لڑکی کی رخصتی کے اخراجات کا بندوبست کردیں وغیرہ وغیرہ۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 7 جون 2018 کے شمارے میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں