Saudi Arabia Oil Field Attack

سعودی عرب پر حملے کے اصل محرکات۔۔۔؟

اگرچہ دو آئل فیکٹریوں پر کروز میزائل حملے سعودی عرب کی سرزمین پر ہوئے ہیں لیکن امریکی میڈیا کے شورشرابے سے محسوس ایسا ہورہاہے کہ جیسے یہ حملے امریکہ پر ہو گئے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اِن حملوں کا بدلہ جلد ازجلد ایران کو نیست ونابود کر کے لینا چاہتے ہیں۔ بقول ٹرمپ اُنہوں نے ایران پر حملہ کے لیئے 15 اہداف لاک کردیئے ہیں جنہیں و ہ کھڑے کھڑے تباہ کرسکتے ہیں اور بس سعودی عرب کی اجازت کا انتظار ہے۔یعنی جیسے ہی سعودی عرب امریکہ کو ایران پر حملہ آور ہونے کا کہے گا امریکہ اپنی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایران کو صفحہ ہستی سے مٹادے گا۔ لیکن کیا امریکہ واقعی ایران پر حملہ کرنے کے لیئے سنجیدہ ہے؟ یا امریکہ کے لیئے ایران پر حملہ آور ہونااتنا ہی سہل ہے جتنا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کو باور کراوانے کی کوشش کررہے ہیں؟۔خاص طور پر اُن حالات میں جبکہ ایران سعودی عرب کے خلاف ہونے والی کسی بھی کاروائی کو قبول کرنے سے یکسر انکاری ہو۔ اس کے علاوہ خطے کی دو انتہائی اہم عسکری طاقتیں روس اور چین بھی امریکہ کے پیش کیئے گئے اُن مبہم ثبوتوں کو مسترد کرچکے ہیں۔جن کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سے کچھ سٹیلائٹ تصاویر جاری کی گئی ہیں جن پر سعودی عرب پر ہونے والے حملوں میں ایران کو ملوث کر نے کی کوشش کی گئی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ ایران کے خلاف جس حتمی نتیجہ پر پہنچنے میں امریکہ کو چند منٹ لگے۔سعودی عرب اُس نتیجہ پر حملہ کے ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی نہیں پہنچ سکا ہے۔ اِس معاملہ پرجو باقاعدہ سرکاری موقف اَب تک سعودی عرب کی فوج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کی طرف سے دیاگیا ہے اُس کے مطابق ”ابتدائی تحقیقات سے فقط اتنا ہی معلوم ہوسکاہے کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں ایرانی ہتھیار استعمال کیئے گئے لیکن یہ حملے یمن سے نہیں کیئے گئے جبکہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے بھی کوئی سچائی نہیں پائی گئی ہے۔ہماری تحقیقات ابھی جاری ہیں ہم یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ سعودی عرب پر یہ حملے کہاں سے کیئے گئے؟“۔

سعودی عرب کے سرکاری موقف سے خوب اچھی طرح واضح ہوگیاہے کہ ایران کے حملوں میں براہِ راست ملوث ہونے کی امریکی رائے کو قبول کرنے میں سعودی عرب کے اعلیٰ حکام ہچکچاہٹ کا شکارہیں۔ دوسری جانب ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اُن کے ملک پر سعودی عرب یا کسی اور طرف سے حملہ کیا گیا تو وہ اُس کے جواب میں سعودی عرب پر حملہ کرنے کے بجائے خطہ میں موجود امریکہ کے بحری بیڑوں اور بری بیسز کو اپنے میزائل کا نشانہ بنائیں گے۔حیران کن بات یہ ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والی سعودی آئل کمپنی آرامکو کی فیکٹریاں عبقیق اور خریض میں سعودی عرب کے جس مشرقی صوبے میں واقع ہے وہ علاقہ چاروں طرف سے مکمل طور امریکی افواج کے زیرِ انتظام ہے اور اِس علاقہ کے اردگرد امریکا کی بے شمار ملٹری بیسز دنیا کے جدید ترین ڈیفنس سسٹم کے ساتھ قائم ہیں۔ اَ ب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کے جدید ترین مواصلاتی نظام کے ہوتے ہوئے یہ کیسے ممکن ہے کہ دو، چار کروز میزائل امریکی افواج کی مرضی کے بغیر آئل کی فیکٹریوں کو نشانہ بناسکیں۔مجھے تو خدشہ ہے کہ کہیں یہ نائن الیون کی طرز کا امریکی سی آئی اے کا پوری طرح سے سوچ سمجھ کر ترتیب دیا گیا مشرقِ وسطی کا نیا نائن الیون حملہ تو نہیں ہے۔ جس کا مقصد مشرقِ وسطی کے خطہ کو نئی جنگوں میں دھکیل کر علاقہ میں اسرائیل کی بالادستی کو قائم کرنا ہو۔ کیونکہ اگر خطہ کے سب ہی ممالک جنگوں میں مصروف ہوجائیں گے تو پھر اسرائیل کی عسکری قوت کو چیلنج کرنے والا کوئی بھی ملک موجودنہیں رہے گا اور شاید امریکہ یہ ہی چاہتا ہے کہ اسرائیل کی شرق سے غرب تک ایک وسیع و عریض صیہونی ریاست قائم کرنے کی راہ میں کوئی ادنی سی بھی رکاوٹ باقی نہ رہے۔



سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدلعزیز نے بالکل درست فرمایا ہے کہ ”یہ حملے سعودی عرب کی تنصیبات پر نہیں بلکہ عالمی معیشت پر کیئے گئے ہیں“۔اِس وقت سعودی عرب دنیا میں کروڈ آئل کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے۔ لہذا اِس حملہ کو پلان کرنے والی بین الاقوامی طاقتوں کی شدید خواہش ہے کہ دنیا بھر خاص طور پر یورپ کو آئل کے بحران کے خوف میں مبتلا کر کے کسی طرح اُنہیں بھی اِس جنگ کی طرف دھکیلا جائے۔ اگر یہ پلان کامیاب ہو جاتا ہے اور سعودی عرب،ایران،ترکی اور روس کی کسی ایک غلط فہمی کی وجہ سے پورا خطہ نئی جنگوں کی لپیٹ میں آجاتا ہے تو آبنائے ہرمز جہاں سے یورپ کو نوے فیصد آئل کی ترسیل ہوتی ہے مکمل طور پر بند ہوجائے گی اور یورپ کا مشینی پہیہ مکمل طور پر جام ہوجائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِس ساری صورت حال سے امریکہ پر کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہوگا کیونکہ امریکہ 70 فیصد آئل خود پیدا کرتا ہے جبکہ بقایا 30 فیصد آئل کی تجارت وہ اپنے پڑوسی ملک وینزویلا کے ساتھ کرتا ہے۔اَب کوئی مانے یا نہ مانے بہرحال ایک بات پوری طرح سے طے ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطی میں چھڑنے والی اِس نئی جنگ میں عملی طورپر کسی صورت شامل نہیں ہوگااور اِس کے آثار ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے ظاہر ہونا شروع بھی ہوگئے ہیں۔ کچھ دن پہلے تک جو ٹرمپ سعودی عرب کے دفاع میں ایران پر حملہ آور ہونے کے لیئے تیار بیٹھا تھا آج وہی ٹرمپ کہہ رہا ہے کہ ہم سعودی عرب میں اپنے فوجی فقط اپنی ملٹری تنصیات کی حفاظت کے لئے بھیج رہے ہیں کیونکہ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے ہمیں لازمی سعودی عرب کے دفاع میں اُس کی جنگ میں کودنا پڑے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ 1930 میں جب آل سعود کے سربراہ محمد بن سعود نے سعودی عرب پر بادشاہت قائم کی تو اس نے امریکی صدر روز ویلٹ سے دفاعی معاہدہ کیا۔ جس کے مطابق امریکہ سعودی عرب کا تحفظ کرے گا اور بدلے میں سعودی عرب امریکہ کو سستا تیل فراہم کرے گا۔امریکہ کی طوطا چشمی ملاحظہ ہو کہ کم و بیش سو سال تک سعودی عرب سے مفت میں تیل حاصل کر نے کے بعد وہ اپنا ایک فوجی اور ایک گولی بھی سعودی عرب کے دفاع میں خرچ کرنے کا روادار نظر نہیں آتا۔امریکہ وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے شاید بالکل سچ ہی کہا تھا کہ ”امریکہ کی دوستی،اُس کی دشمنی سے زیادہ نقصان دہ ہے“۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور کے شمارہ میں 26 ستمبر 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں