Protest in Assam India

آسام کا المیہ۔۔۔!

ذرا لمحہ بھر کے لیئے سہی،مگر تصور تو کرکے دیکھیں کہ آپ ایک رات اپنے خاندان کے ہمراہ ہنسی خوشی سوئے ہوں اور جب اگلی صبح بیدار ہوں تو آپ کو اپنی سرکار کی طرف سے جاری ہونے والی ایک فہرست کے ذریعہ سے اچانک معلوم ہو کہ آپ اور آپ کے خاندان کو آپ کے اپنے ملک نے ہی اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکار کر کے پوری دنیا کے لیئے کاغذی دستاویزات کی رُو سے بالکل اجنبی قرار دے دیا ہے اور آج کے بعد آپ کی کسی دستاویزی شناخت کو دنیا بھر میں کہیں بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔یعنی اِس دنیا میں موجود 199 ممالک میں سے کسی ایک چھوٹے سے ملک یا جزیرہ کی بھی شہریت بھی اَب آپ کے پاس باقی نہیں بچی ہے۔ یہ ایک ایسی خوفناک اور دل دہلادینے والی صورت حال ہے،جس کے بارے میں یقینا آپ نے کبھی خیال و خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام ریاست آسام میں یکم ستمبر 2019 کی صبح 19 لاکھ سے زائد مسلمانوں کو اِس عجیب و غریب صورتحال سے جبری طور پر دوچار کردیا گیا ہے اورگزشتہ کئی دہائیوں سے آسام میں رہنے والے لاکھوں مسلمان خاندانوں کی بھارتی شہریت کو حتمی طورپر بیک جنبش قلم مسترد کرکے اُنہیں بے وطن کردیا ہے۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ لاکھوں افراد کی شہریت منسوخی کے فیصلہ کے فوراً بعد آسام بھر میں بہت بڑی تعداد میں فوجی دستوں کو تعینات کردیا گیا ہے تاکہ مودی سرکار کے اِس جابرانہ حکمنامہ کے آگے سرنگوں نہ کرنے والوں یا اِس فیصلہ کے خلاف مظاہرے اور احتجاج کرنے والے سے بھرپور عسکری طاقت سے نمٹا جاسکے۔ جبکہ لاکھوں کی تعداد میں بی جے پی کے تربیت یافتہ انتہاپسند ہندو بھی جوق در جوق آسام پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔جنہیں بی جے بی کی طرف سے یہ ہدف دیا گیا ہے کہ وہ آسام میں احتجاجی فضا ء پیدا ہوتے ہی گجرات کی طرز پر مسلم کش فسادات کا آغاز کرکے زیادہ سے زیادہ مسلمانو ں کو تہہ تیغ کر دیں۔

یہ بھی پڑھیئے: چین اور بھارت کے درمیان جنگ کا دوسرا مرحلہ

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کی آبادی 3 کروڑ 30 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جس میں تقریباً 90 لاکھ بنگالی نسل کے لوگ بھی شامل ہیں جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جبکہ برطانوی دور حکومت اور 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ کے وقت بھی کافی لوگ وہاں آکر آباد ہوئے تھے۔ بظاہر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کی جانب سے شہریت کی فہرست جاری کرنے کے عمل کو بنگلہ دیش سے آنے والے مہاجرین کو آسام کے اصل باشندوں سے الگ کرنا قرار دیا ہے اور اِس فہرست میں صرف ان لوگوں کو شامل کیا گیا جو 1971 سے پہلے بھارت میں رہائش پذیر ہونے کے دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کرسکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش سے آنے والے مسلمانوں کی آڑ لے کر آسام میں صدیوں سے آباد اصل بھارتی مسلمانوں کی شہریت کو منسوخ کردیا گیاہے۔

جب کہ بی جے پی کے ذرائع تو یہ بھی دعوی کررہے ہیں کہ فی الحال 19 لاکھ مسلمانوں کی شہریت منسوخی تو ایک ابتداء ہے اور آنے والے دنوں میں آسام میں بسنے والے مسلمانوں کی شہریت منسوخی مزید کئی مراحل کا آغاز کیا جائے گا اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا۔جب تک آسام کا آخری مسلمان بھی آسام نہیں چھوڑ دیتا یا پھر وہ ہندو مذہب اختیار نہیں کرلیتا۔ بھارت بھر میں ہندوں کی بڑی تعداد نے اسے ایک جرات مندانہ اقدام قرار دیا ہے اور حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک ایسے کام کے لیے تعریف کی ہے بقول ان کے جسے کرنے کی دوسری ریاستی حکومتوں میں ہمت نہیں تھی۔جبکہ انتہاپسندوں کی جانب سے بی جے پی سے یہ مطالبہ بھی کیا جارہا ہے وہ جلد از جلد اِس طرح کے اقدامات کا آغاز بھارت کی دیگر مسلم اکثریت رکھنے والی ریاستوں میں بھی میں کریں تاکہ بھارت میں بسنے والے 22 کروڑ مسلمانوں کو جبری طور پر ہندو مذہب قبول کرکے ”شدھی“ کرنے کی تحریک کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ”جینو سائیڈ واچ“جو دنیا بھر کے نسلی فسادات والے علاقوں پر گہری نگاہ رکھتی ہے۔یہ تنظیم24 اگست کو ہی اپنی ایک رپورٹ میں آسام اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی طرف سے منظم نسل کشی کا الرٹ جاری کرچکی ہے۔ جینو سائیڈ واچ نے نسل کشی کا الرٹ جاری کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ہوئے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ ”بھارتی جنتہ پارٹی کا ہندو توا کا نظریہ مسلمانوں کی نسل کشی کو ضروری خیال کرتا ہے اور جس کی اِس نے تمام تر تیاریاں مکمل بھی کرلی ہیں اور آنے والے دنوں میں مقبوضہ کشمیر اور آسام میں 10 مختلف مراحل میں مسلمانوں کی منظم اور وسیع نسل کشی کا منصوبہ حتمی انجام تک پہنچایا جائے گا۔اِس لیئے یہ تنظیم دنیا بھر سے یہ اپیل کرتی ہے کہ وہ بھارت کو مسلمانوں کی منظم نسل کشی کرنے سے باز رکھیں“۔افسوس کی بات یہ ہے کہ جینو سائید واچ کی اِس رپورٹ کو جاری ہوئے دو ہفتے سے زائد ہوچکے ہیں اور رپورٹ میں بیان کیئے گئے حقائق ایک ایک کر کے بڑی تیزی کے ساتھ رو بہ عمل بھی ہونا شروع ہوگئے ہیں مگر مجال ہے جو اقوامِ عالم کے ماتھے پر فکر اور پریشانی کی ایک ہلکی سی شکن بھی نمودار ہوئی ہو۔

بظاہر مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارتی ریاست آسام میں ہونے والی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں ایک جیسی لگتی ہیں لیکن میرے نزدیک آسام کا المیہ آنے والے ایام میں مقبوضہ کشمیر سے بھی زیادہ سنگین اور المناک صورت اختیار کرنے والاہے۔اُس کی وجہ یہ ہے کہ کشمیریوں کی پشت پر ریاست ِ پاکستان اپنی پوری اخلاقی،سفاتی اور عسکری قوت کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ آسام کے لاکھوں مسلمان،بنگلہ دیش کے ہمسایہ اور نسلی طور پر بنگالی ہونے کے باوجود بھی بنگلہ دیش کی ریاستی حمایت سے یکسر محروم ہیں۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ آسام میں شروع ہونے والے مسلم نسل کشی کے منصوبہ کو بنگلہ دیشی حکومت نے بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے کر خود کو اِس تنازعہ سے مکمل طور پر لاتعلق کرلیاہے۔ یہاں حکومتِ پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوئی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ آسام میں ہونے والی ہندو انتہا پسندوں کی چیرہ دستیوں کو بھی دنیا بھر کے سامنے اُجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کرے تاکہ آسام کے مظلوم مسلمانوں کے دُکھ کا بھی کچھ مدوا ہوسکے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 12 ستمبر 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں