Malik Asad Sikandar with Bilawal Bhutto

زرداری اوراسد سکندرکے اختلافات سے پی پی پی کی صفوں میں بھونچال

پا کستان بھر میں شہرت تو یہ ہے کہ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری دوستوں کے دوست ہیں اور دوستی نبھانے میں آخری حد تک چلے جاتے ہیں اور اس کے لیئے بڑے سے بڑے سیاسی نقصان کی بھی پروا نہیں کرتے۔مگر اب سیاسی حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ جو جتنا آصف علی زرداری کا قریبی دوست تھا آج وہ اتنا ہی بڑا سیاسی مخالف بن کر اُن کے سامنے آرہا ہے۔سب سے پہلا جگری دوست جس نے آصف علی زرداری کے فلسفہ دوستی کو سیاسی دشمنی میں بدل دیا وہ ذوالفقار مرزا تھااور اب ملک اسد سکندر بھی عین ذوالفقار مرزا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آصف علی زرداری کی اقلیم سیاست کے لیئے ایک خطر ناک چیلنج بنتا جارہا ہے۔ایک،ایک کر کے آصف علی زرداری کے دوستوں کا یوں اچانک راستہ بدلنا پاکستان پیپلز پارٹی کے لیئے بالعموم اور آصف علی زرداری کے سیاسی مستقبل کے لیئے بالخصوص کوئی نیک شگون قرار نہیں دیا جاسکتا۔اس وقت آصف علی زرداری اور ملک اسد سکندر کے درمیان اختلافی معاملات انتہائی سنگین نوعیت اختیار کر چکے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ جامشورو میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے ہی رکن اسمبلی ملک اسد سکند ر کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔آصف علی زرداری اور ملک اسد سکندر میں اختلافات کے بعدپیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے ملک اسد سکندر سبق سکھانے کا آخری فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعدضلع جامشور ومیں تقریباً تمام سرکاری افسران جن کا ذرہ برابر بھی ملک اسد سکندر سے وفاداری کا شائبہ تھا ان سب کو فور ی طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔اب تک دو ڈپٹی کمشنر تبدیل ہوچکے ہیں اس کے علاوہ محکمہ ریونیو میں تحصیل کوٹری اور تحصیل تھانہ بولاخان کے اسسٹنٹ کمشنر اور پٹواری بھی تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔عرفان بہادر کوملک اسد سکندر کے خلاف بھر پور کارروائیوں کا ٹاسک دے کر ایس ایس پی جامشورو مقرر کردیا گیا ہے۔ کوٹری، نوری آباد، لونی کوٹ تھانوں کے ایس ایچ او ز بھی تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ محکمہ بلدیات نے ٹی ایم او مانجھند اور ٹی ایم او بولا خان کو بھی تبدیل کردیا ہے۔اتنے بڑے پیمانے پر انتظامی تقرری و تبادلے کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ ملک اسد سکندر کے خلاف بھرپور کارروائی کی جاسکے۔ سندھ حکومت کے ان اقدامات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ملک اسد سکندر کے خلاف کارروائی کرنے کے لیئے کتنی بھرپور منصوبہ بندی اور تیاری کی گئی۔اُس کی وجہ یہ ہے کہ ملک اسد سکندر اپنے علاقے میں انتہائی بااثر اور طاقتور شخصیت خیال کی جاتی ہے اور مشہور ہے کہ اس نے بطور آصف علی زرداری کے دوست اور فرنٹ مین اپنے علاقے میں ریاست کے اندر ایک ریاست بنائی ہوئی ہے۔ویسے بھی ذوالفقار مرزا کے واقعہ سے پیپلز پارٹی نے اتنا سبق تو اب سیکھ ہی لیا ہے کہ آصف علی زرداری کے دوستوں کے خلاف کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی کرنااپنی جان جوکھم میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

سندھ حکومت نے ایک ہی دن میں ملک اسد سکندر کی تقریباً تمام قابل ِ ذکر جگہوں پر بھر پور کارروائیاں کی ہیں۔ جن میں تھانہ بولا خان،نوری آباد، لونی کوٹ، مانجھند میں ریتی بجری کے بڑے بڑے گوداموں،شادی ہالز، ریسٹورنٹس اور 50 سے زائد کریش پلانٹ بند کرکے پولیس کو تعینات کر دیا گیا ہے۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کاادارہ بھی حرکت میں آگیا ہے اور تھرمل پاور ہاؤس کے قریب ملک اسد سکندر کی تین ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف آپریشن شروع کردیا۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی دائریکٹر مقبول احمد قریشی اور محمد اشرف دیگر افسران کے ہمراہ جب تعمیرات مسمار کرنے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ پہنچے تو ملک اسد سکندر کے سینکڑوں حامی رکن صوبائی اسمبلی فقیر داد کھوسو،جامشورو ٹاؤن کے چیئرمین فیصل پٹھان،میونسپل کمیٹی کوٹری کے چیئرمین ارباب نور محمد شورو اور میونسپل کمیٹی پولھاڑی کے چیئرمین مختار جمالی بھی وہاں پہنچ گئے اور پتھراؤ کر کے پولیس اورسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے عملے کو وہاں سے بھگا دیا اور ملک اسد سکندر کی حمایت میں او ر سندھ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی،کشیدگی اس نہج پر جاپہنچی کہ علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔مظاہرین کی قیادت کرنے والے رکن صوبائی اسمبلی فقیر داد کھوسو نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ”یہ ہاؤسنگ اسکیمیں سیہون ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے منظور شدہ ہیں۔ملک اسد سکندر کے خلاف ڈاکٹر سکندر علی شورو اور جام خان شورو کی خواہش پر انتقامی کارروائی کی جارہی ہیں۔حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ انہوں نے اپنی ہی پارٹی کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ پرسکون سیاسی ماحول کو خراب نہ کریں اوراپنے ووٹروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا سلسلہ فوری بند کریں ورنہ تمام تر حالات کی ذمہ دار سندھ حکومت ہوگی۔دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر مقبول احمد قریشی کا کہنا ہے کہ”یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ہماری کارروائیاں کسی قسم کے سیاسی انتقام کا حصہ ہیں،ہمارے ریکارڈ کے مطابق یہ ہاؤسنگ اسکیمیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے منظور شدہ نہیں ہیں اس لیئے انہیں مسمار کیا جارہا ہے“۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ آصف علی زرداری اور ملک اسد سکندر کے درمیان اصل وجہ تنازع بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض ہیں۔جامشورو اور اس کے ارد گرد کی انتہائی قیمتی زمینوں پر ملک ریاض کی نظریں ہیں اور وہ اس کے عوض آصف علی زرداری کو منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہیں۔مگر ملک اسد سکندر کسی صورت بھی اپنی اس اراضی سے دستبردار ہونے کو تیا ر نہیں۔جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے بعض ذرائع ان کارروائیوں کے جواب میں یہ جواز پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ ”ملک اسد سکندر آصف علی زراداری کا نام استعمال کر کے جامشورو اور اس کے اردگرد تما م اہم جگہوں پر قابض ہوتا جارہا تھا جس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے پیپلزپارٹی کی حکومت پر اس کے خلاف کارروائی کرنے کے لیئے مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دباؤ پر ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اپنی ساکھ کو بچانے کے لیئے ملک اسد سکندر کے خلاف کارروائی کا مشکل فیصلہ کیا“۔بہرحال اصل بات جو بھی ہو مگر ایک بات طے ہے کہ پیپلز پارٹی کے اندرونی اختلافات نے اندرون سندھ میں پیپلز پارٹی کے عام کارکنوں میں شدید بے چینی پیدا کردی ہے۔جو یقیناآگے جاکر پیپلزپارٹی کے سیاسی مستقبل کے لیئے زہر قاتل ثابت ہوگی۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 27 جولائی 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں