Imran Khan and Asif Ali Zardari

زرداری کے سیاسی عزائم اور عمران خان کا نیا پاکستان

خدا خدا کر کے کہ 2013ء کے عام انتخابات میں باریوں پر باریاں لینے والی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا طلسم ٹوٹا اور ایک نئی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں بھرپورحصہ لیا اور خلافِ توقع انتخابات میں تیسری پوزیشن حاصل کرلی۔کیا 2018 ء کے انتخابات میں بھی پاکستان تحریک انصاف اپنی اس سابقہ کامیابی کے سلسلے کو مزید دوام دیتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کر سکے گی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آج کل ہر پاکستانی جاننا چاہتا ہے۔بظاہر مسلم لیگ ن کی شکست و ریخت سے ایسا لگتا ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف مسلم لیگ ن کی سیاست کو ہمیشہ کے لیئے نہیں تو کم از کم آنے والے پانچ سال کے لیئے ضرور دفن کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔اب سوال یہ ہے کہ کیا سندھ میں بھی تحریک انصاف،پاکستان پیپلزپارٹی کے جادو کا کوئی توڑ کر پائے گی یا نہیں؟کیونکہ ایک بات طے ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ ایک قومی سطح کی وفاقی جماعت ہے، جس پر پورا پاکستان یکساں طور پر اعتماد کرتا ہے تو پھر اُسے ضرور 2018 ء کے انتخابات میں سندھ میں دوسرے یا تیسرے نمبر کی جماعت بن کر سامنے آنا ہوگا۔ شاید اس بات کا ادارک تحریک انصاف کی قیادت کو بھی بخوبی ہے۔ اسی لیے عمران خان نے سندھ میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی کے سب سے مضبوط انتخابی گڑھ اور آصف علی زرداری کے آبائی گھر نواب شاہ سے کیا۔بادی النظر میں پی ٹی آئی کی جانب سے نواب شاہ میں کیئے جانے والے سیاسی طاقت کے مظاہرہ کو بلاشبہ فقیدالمثال یا کوئی بہت بڑا سیاسی مظاہر ہ تو قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن جس طرح سے نواب شاہ میں عمران خان نے اپنی جماعت کی انٹری دی ہے اسے یکسر نظر انداز کرنا بھی کسی بے وقوفی سے کم نہ ہوگا۔ آج سے پانچ سال پہلے 2013 ء کے انتخابات میں بھی نواب شاہ سے پی ٹی آئی کے ایک اُمیدوار نے شہر کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن میں حصہ لیا تھا لیکن وہ گمنام کھلاڑی کون تھا اُسے کوئی نہیں جانتا تھا۔ پورے الیکشن کے دوران کسی بھی جگہ نہ تو پی ٹی آئی کا اُمیدوار کسی کو دکھائی دیا تھا اور نہ ہی کوئی سیاسی ورکر نظر آیا، مگر حیرت کی بات یہ تھی پھر بھی شہر کے کم وبیش ہر پولنگ اسٹیشن سے عمران خان کے اُمیدوار نے آٹے میں نمک کے برابر ہی سہی لیکن ووٹ ضرور حاصل کر لیئے تھے۔جو یقینا عمران خان کی شخصیت کی وجہ سے ہی ملے ہوں گے۔اُس وقت سے اگر آج نواب شاہ میں تحریک انصاف کی سیاسی قوت کا موازنہ کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ پچھلے چند سالوں میں تحریک انصاف نے تنظیمی سطح پر اپنے آپ کو کافی منظم کرلیا ہے۔ اب شہر میں جگہ جگہ عمران خان اور تحریک انصاف کے سپورٹروں کے بینرز اور تصاویر عام دکھائی دیتی ہیں اور شہر کی کئی اہم ترین سیاسی شخصیات تحریک انصاف کے پیچھے کھڑی اور اُسکی سیاسی و مالی امداد کرتی نظر آتیں ہیں اور یہ صورتحال صرف آصف علی زرداری کے شہر نواب شاہ کی ہی نہیں ہے بلکہ سندھ کے تمام شہری علاقوں کی صورتحال ایس ہی ہے کہ اب تحریک انصاف جگہ جگہ نظر آنا شروع ہوگئی ہے۔تحریک انصاف کی سندھ میں اس نئی سیاسی اُٹھان کو آنے والے وقت میں پیپلزپارٹی کے لیئے کسی بھی صورت نیک شگون نہیں قرار دیا جاسکتا۔اگر پاکستان پیپلزپارٹی نے بروقت تحریک انصاف کی سیاسی قوت کا درست اندازہ لگانے کے بجائے صرف خالی خولی بیانات کے راگ ہی الاپتی رہی تو عمران خان سندھ میں پیپلزپارٹی کے لیئے کسی نئے سیاسی طوفان کا پیش خیمہ بھی بن سکتے ہیں۔جس کااندازہ عمران خان کے حالیہ دورہئ سندھ میں کی جانے والی گفتگو سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ عمران خان نے نواب شاہ میں آصف زرداری پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ”سندھ کے عوام کا پیسہ ملک سے باہر گیا، میں ملک سے باہر پیسہ بھیجنے والے لوگوں سے مقابلہ کرنے آگیا ہوں، اب بہت جلد آصف زرداری بھی کہیں گے کہ مجھے کیوں نکالا اور جیل میں ڈالا۔ کسی صوبے میں سندھ جیسا ظلم نہیں ہوا، سندھ کے عوام پاکستان میں سب سے پیچھے رہ گئے، بلوچستان میں بھی سندھ کی طرح غربت نہیں ہے۔ آصف زرداری سُن لو!میں تمہارا مقابلہ کرنے آگیا ہوں، سندھ کی بڑی بیماری آصف زرداری ہے، سندھ میں خوف کے اوپر سیاست ہوتی ہے،جسے میں ختم کرکے دم لوں گا“۔حیدرآباد میں پریس کانفرنس کے دوران عمران خان نے کہا کہ”سندھ میں لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے، آصف زرداری، ان کی بہن اور وزیر یہاں کے عوام پر ظلم کر رہے ہیں۔ قوم پر قرضے بڑھ رہے ہیں اور حکمران معاہدے خفیہ رکھ رہے ہیں، ملک میں قانون مجرموں کیلئے بنائے جاتے ہیں اور دنیا بھر میں کہیں ایسے قانون پاس نہیں ہوتے جیسے یہاں ہوتے ہیں۔سندھ میں ایسی لوٹ مار ہے اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی،سندھ کے لوگ پیپلزپارٹی سے جان چھڑانے کیلئے فیصلہ کرچکے ہیں۔ ایک فرعون پنجاب میں بیٹھاہے، ایک فرعون سندھ میں ہے، فرعونوں کا مقابلہ کرکے دکھاؤں گا، آصف زرداری کی حیثیت بھٹو خاندان میں بالکل ایسے ہے جیسے کیپٹن صفدر کی حیثیت شریف خاندان میں ہے“۔ عمران خان کے حالیہ دورہئ سندھ نے ایک بات تو ثابت کردی سندھ کے عوام کی نظر میں عمران خان اب بھی ویسے ہی مقبول ہیں۔ جیسا کہ وہ 2013 ء کے عا م انتخابات میں سندھ خصوصاً کراچی میں عمران خان کی مقبول تھااور لوگ پی پی، متحدہ، مسلم لیگ ن اور فنکشنل لیگ وغیرہ سے مایوس ہوکر پی ٹی آئی کی طرف دیکھ رہے تھے مگر اُس وقت عمران خان نے کراچی سمیت سندھ کے کسی شہر کا انتخابی دورہ نہ کرکے ایک بہت بڑی سیاسی غلطی کی جس سے سندھ کے عوام کو شدید مایوسی ہوئی۔اگر اس بار بھی تحریک انصاف کی طرف سے اپنی اسی سیاسی غلطی کو دہرایا گیا تو پھر سندھ میں تحریک انصاف کے لیئے اپنے سیاسی قدم جمانا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔اس میں شک نہیں کہ محض چند مہینوں میں عمران خان نے اپنے داؤ پیچ سے نواز شریف کو بُری طرح پیچھے دھکیل دیا ہے۔ پہلے راؤنڈ میں وہ بے شک نواز شریف کو مکمل ناک آؤٹ ہو چکے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اب وہ ہوشیاری سے کام لیں کیونکہ ان کے حوالے سے زرداری صاحب کے سیاسی عزائم ٹھیک نہیں ہیں۔اب اس فیصلہ کن مرحلہ میں آصف علی زرداری،عمران خان کی سیاست کے لیئے ایک بہت برا خطرہ بن کر سامنے آئیں گے۔آنے والے انتخابات میں سندھ بھر میں بڑا مقابلہ عمران خان کی جماعت اورٖٖٖٖپاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان ہو گا۔آصف علی زرداری اپنی تمام تر سیاسی بصیرت و دانائی کو استعمال میں لاتے ہوئے عمران خان اور اُن کی جماعت کو سندھ کی سرزمین سے سیاسی طور پر مکمل طور پر بے دخل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار عمران خان کا جنون بازی مارتا ہے یا ایک بار پھرسے آصف علی زرداری اپنی بے مثال سیاسی چالوں کی بدولت سندھ میں عمران خان کو چاروں شانے چت کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 19 اپریل 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں