APC in Lahore

اے پی سی کے اے بی سی

اپوزیشن کی حکومت کے خلاف منعقد ہونے والی حالیہ اے پی سی کا حشر نشر دیکھ کر ہم سوختہ دلوں کورہ رہ کر نواب زادہ نصراللہ خان کی یاد آرہی ہے، اُمید ہے کہ اپوزیشن کی اے پی سی میں شرکت کرنے والی تمام ہی جماعتوں خصوصا پاکستان مسلم ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں کو بھی نواب زادہ نصراللہ خان بہت زیادہ شدت کے ساتھ یاد آرہے ہوں گے۔کیونکہ برسرِ اقتدار حکمرانوں کے خلاف کامیاب اے پی سی کروانے کا جو ملکہ اور ہنرپاکستانی سیاست میں نواب زادہ نصراللہ خان کو حاصل تھا، مرحوم و مغفور نواب زادہ کے راہی ملک عدم ہونے کے بعد حکومتیں گرانے اور بنانے کا ایسا ہنر مند ”سیاسی کاریگر“ آج تک پاکستانی سیاست کے اُفق پر پھر سے دیکھنے میں نہ آیا۔سچی بات تو یہ ہے کہ نواب زادہ صاحب کی معیت میں ہونے والی اے پی سی حقیقی معنوں میں آل پارٹیز کانفرنس کہلانے کی حقدار ہوا کرتی تھیں۔اے پی سی اجلاسوں میں نواب زادہ نصراللہ خان کے دبدبے کا یہ عالم ہوا کرتا تھا کہ پینتیس،چالیس جماعتوں کے بڑے بڑے قدآور سربراہوں میں سے کسی میں یہ مجال یا ہمت نہیں ہوتی تھی کہ دورانِ اجلاس نواب زادہ صاحب کے ترتیب دیئے گئے اعلامیہ کے نکات پر حرفِ اعتراض اُٹھاسکے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ نواب زادہ نصراللہ خان نہ صرف تمام جماعتوں کو اے پی سی کے ایجنڈے پر متفق کرلیا کرتے تھے بلکہ کسی بھی سیاسی جماعت کواے پی سی کامتفقہ اعلامیہ جاری ہونے کے بعد اُس سے سرمو انحراف کرنے نہ دیتے تھے۔ گو کہ مولانا فضل الرحمن گزشتہ 10 ماہ سے مسلسل اِس کوشش میں ہیں کسی طرح انہیں بھی نواب زادہ نصراللہ خان کی طرح ”بادشاہ گری“کا ہنر آجائے، مگر باوجود کوشش بسیارکے اَب تک اُنہیں اِس میدان میں کوئی خاص کامیابی نہیں مل پارہی۔مولانا فضل الرحمن کو کامیابی نہ ملنے کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ مولانا کی عمران خان کے ساتھ سیاسی دشمنی اتنی زیادہ ہے کہ اپوزیشن کو ہر لمحہ یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ عمران خان کی مخالفت میں مولانا فضل الرحمن احتجاج کی آگ کو اِس قدر بڑھاوا نہ دے دیں کہ اِس کی زد میں آکر حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے بال و پر بھی جل کر خاکستر نہ ہوجائیں۔

اپوزیشن کا یہ ہی ڈر اور خوف حکومت کے خلاف ہونے والی اے پی سی کے ناکام ہوجانے کا بنیادی سبب بھی ہے۔مگراِس کا مطلب یہ بھی ہرگز نہیں لیا جاسکتا کہ مولانا فضل الرحمن کی ناکام اے پی سی کے بعد اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے تحریک انصاف کی حکومت کو جہاں ہے،جیسی ہے کہ بنیاد پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے قبول کرلیا ہے۔یادش بخیر کہ اپوزیشن بہر صورت تحریک انصاف کی حکومت خصوصا وزیراعظم پاکستان عمران خان سے جلد از جلد اپنی جان چھڑانا چاہتی ہے مگر اُس خود کش سیاسی طریق پر نہیں جس کے پرچارک مولانا فضل الرحمن اپنی اے پی سے میں نظر آرہے تھے۔دورانِ اے پی سی بلاول بھٹو زرداری اور مولاناکے درمیان اِس معاملہ پر خوب تکرار بھی ہوئی تھی،اگر اے پی سی میں شریک دیگر ارکان دونوں میں بروقت بیچ بچاؤ نہیں کرواتے تو عین ممکن تھا کہ اے پی سی کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں ہی پھوٹ جاتی۔ مصیبت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز کے علاوہ دیگر تمام اپوزیشن جماعتوں کے رہنما تحریک انصاف کی حکومت کے سانپ کو تو مارنا چاہتے ہیں لیکن اپنی لاٹھی کو بھی ٹوٹنے سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔کیونکہ ساری اپوزیشن اچھی طرح سے اِس بات کا ادراک رکھتی ہے کہ اُن کی طرف سے حکومت کے خلاف احتجاج کے لیئے عجلت میں اُٹھایا گیا ایک غلط قدم بھی پورے پارلیمانی نظام کی بساط لپیٹ کر رکھ سکتا ہے اور ایک ایسے نظام کی موت اپوزیشن کو کسی بھی صورت گوارا نہیں ہوسکتی، جسے اِن جماعتوں نے گزشتہ چالیس برسوں میں خوب محنت اور مشقت سے اپنی آنی والی نسلوں کے لیئے بنایا ہے۔اپوزیشن کے لیئے سب سے بڑا سہارا بھی یہ ہی نظام ہے جس کے ہوتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے لیئے اپوزیشن سے نمٹنا ایک کارِ محال سے کم نہیں ہے۔



اے پی سی میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے جو سب سے بڑی پیش رفت دکھائی گئی ہے وہ سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کو ہٹانے کا عزمِ صمیم ہے۔اَب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں متحدہ اپوزیشن اِس سمت کس قدر چابک دستی اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتی ہے۔بظاہر چیئرمین سینٹ کو ہٹانا اپوزیشن کے لیئے چند گھنٹوں سے زیادہ کا کھیل نہیں ہے مگر جس طرح سے اپوزیشن چیئرمین سینٹ کو ہٹانے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔اُس سے تو عام لوگوں کے اذہان میں یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ کہیں اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن چیئرمین سینٹ کے ہٹانے والے ترپ کے پتے کو اپنی اپنی جماعتوں کے قائدین کے لیئے ڈھیل یا ڈیل حاصل کرنے کے لیئے استعمال کرنا تو نہیں چاہ رہیں۔ اگر یہ خدشات حقیقت کا روپ دھار ن کرلیتے ہیں اور اپوزیشن کی تمام جماعتیں اِس بار بھی چیئرمین سینٹ کو ہٹانے میں ناکام رہتی ہیں تو پھر اِس کا صاف مطلب یہ ہی لیا جائے گاکہ مولانا فضل الرحمن اور اِن کی اے پی سی کو ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرلیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا فضل الرحمن کو بھی کچھ اپنی ”سیاسی اداؤں“ پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے،عمران خان کی حکومت کے خلاف احتجاج،لاک ڈاؤن یا پھر اسمبلی سے استعفوں کا اعلان کرنے سے پہلے معروضی حالات و حقائق کو پیشِ نظر رکھنا ہوگا بصورت دیگر تن تنہا حکومت کے خلاف صف آراء سے مولانا فضل الرحمن اور اُن کی سیاسی جماعت کسی المناک ”سیاسی انجام“ سے بھی دو چار ہوسکتی ہے۔جبکہ مولانا کے لیئے ہمارا ایک مفت مشورہ یہ بھی ہے کہ اُنہیں فی الحال کچھ عرصہ کے لیئے اے پی سی کی میزبانی کرنے سے توبہ تائب کرلینی چاہیئے کیونکہ اے پی سی کی اے بی سی بہت ہی مشکل ہے،ہمارا اندازہ ہے کہ اِسے سیکھنے کے لیئے یقینا مولانا فضل الرحمن کو کافی وقت درکار ہوگا۔بقول جون ایلیا
دلیلوں سے دوا کا کام لینا سخت مشکل ہے
مگر اِس غم کی خاطر، یہ ہنر بھی سیکھنا ہوگا

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر یکم جولائی 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں