Portrait at Islamabad

امیرِ قطر کا دورہ پاکستان،نامساعد حالات میں اُمید کی کرن

آج سے ٹھیک تین برس قبل 5 جون 2017 میں جب قطر پر اس کے ہمسایہ ممالک نے اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کیں تو حقیقی معنوں میں قطر پوری دنیا میں اکیلا ہوگیا تھا۔قطریوں کے لیئے یہ ایک انتہائی سخت دورِ ابتلا تھا۔اِس مشکل ترین وقت میں جب ہر طرف سے یہ خدشات ظاہر کئے جارہے تھے کہ کہیں قطر اپنے ہمسایہ ممالک کی جانب سے غیر معمولی سفارتی پابندیوں و بائیکاٹ کے باعث دنیا بھر میں اپنا ریاستی تشخص ہی نہ گنوا بیٹھے، پاکستان قطر کے اُن چند گنے چنے دوست ممالک میں سے ایک تھا جس نے نہ صرف قطر سے اپنے سفارتی و برادرانہ تعلقات منقطع نہیں ہونے دیئے بلکہ قطر کے ساتھ اپنا حقِ دوستی ادا کرتے ہوئے اُس وقت کے وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف نے اپنے اثرو رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے سعودی فرماں روا شاہ سلمان سے ملاقات کرکے اُنہیں سعودی عرب اور قطر کے مابین ہونے والے اختلافات کو ختم کرنے کے لیئے اپنا مقدور بھر کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ جبکہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے بھی ایک متفقہ قرارداد منظور کرکے قطر کے معاملے پر ثالثی کرنے اور غیر جانبدار رہنے کے پاکستانی حکومت کے موقف کی زبردست حمایت کی۔اِس کے علاوہ پاکستان کی تمام مذہبی جماعتوں نے بھی قطر کے تنازعہ پر بالعموم غیر جانبدار رہنے کو ہی ترجیح دی۔ گویا اُس وقت پوری پاکستانی قوم جس حد تک بھی قطر کی دامے ورمے سخنے مدد کرسکتی تھی وہ اپنے تئیں کرنے کی کوشش کی۔انتہائی نامساعد حالات میں پاکستان کے غیر معمولی سفارتی و اخلاقی حمایت قطریوں کے لیئے ایک ایساقابلِ اعتماد تنکا ثابت ہوئی،جس کا سہارا لے کر قطر آخر کار اپنی تاریخ کے سخت ترین بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوہی گیا۔یوں چہار دانگ عالم پر بھی یہ اچھی طرح سے واضح ہوگیا کہ پاکستان اور قطر کے برادرانہ تعلقات ہر قسم کے سُود و ضیاع سے بے نیاز اور ہر آزمائش پر پورے اُترنے والے ہیں۔

پاکستان اور قطر کے درمیان پائے جانے والے رشتہ اُخوت و یگانگت کے یہ ہی وہ بنیادی اسباب تھے جن کے پیشِ نظر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے زمامِ اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد وطنِ عزیز کو مشکل معاشی صورت حال سے نکالنے کی خاطر جن دوست ممالک کی جانب تعاون کے لیئے نگاہ دوڑائی اُن تمام ممالک میں قطر سب سے نمایاں تھا۔اطمینان بخش بات یہ ہے کہ حکومتِ قطر کی طرف سے بھی ریاست ِ پاکستان کے ساتھ فراخ دلانہ دستِ تعاون دراز کیا گیا اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کو قطر کا دورہ کرنے کی خصوصی دعوت دی گئی۔عمران خان نے اپنے دورہ قطر کے موقع پر ہی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔جس کے جواب میں امیر قطر خصوصی طور پر اپنے متعدد وزراء اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں پر مشتمل وفد کے ہمراہ عازمِ پاکستان ہوئے۔امیرِ قطر کے حالیہ دورے میں دونوں ممالک کی جانب سے مفاہمت کی کئی اہم ترین یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔عمران خان اور شیخ تمیم بن حمد الثانی کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم پاکستان اور امیرِ قطر کے درمیان براہ راست تبادلہ خیال کے علاوہ وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے۔ اِن مذاکرات میں دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ دونوں جانب سے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور سیاسی و اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے پر اتفاق کا اظہارکیا گیا۔ اس کے علاوہ دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کیلئے کئی انقلابی اقدامات بھی زیر غور آئے،خاص طور پر ایل این جی اور ایل پی جی سمیت توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا حتمی فیصلہ ہوا، تیل اور گیس کی تلاش سمیت پیداوار کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کا معاہدہ طے کیا گیا۔ چونکہ قطر دنیا بھر میں مائع گیس کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے، اس لیئے اِس معاہدہ کو پاکستان میں توانائی کے بحران کو حل کی طرف ایک انقلابی پیش رفت کہا جاسکتاہے۔



اگر دیگر شعبوں کی بات کی جائے تو دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان زراعت، سیاحت اور صنعتی شعبے میں بھی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا بھی فیصلہ ہوا جبکہ قطر میں پاکستانی کارکنوں کی تعداد میں اضافے، ایوی ایشن، بحری معاملات، دفاعی شعبوں، اعلیٰ تعلیم، فوڈ انڈسڑی اور دفاعی پیداوار بڑھانے میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ قطر کے موقع پر قطری حکومت نے مزید ایک لاکھ پاکستانی شہریوں کو اپنے ملک میں روزگار فراہم کرنے کی منظوری دی تھی، جس کا عملی طریقہ کار بھی حالیہ دورہ امیرِ قطر میں تفصیل کے ساتھ زیرِ بحث آیا، جس کی بعد اُمید کی جارہی ہے جلد ہی ہنر مند پاکستانی شہریوں کو روزگار کے لیئے قطری حکومت کی طرف ویزے جاری کرنے شروع کردیئے جائیں گے۔ یاد رہے کہ 2022 کے فٹبال ورلڈکپ کی میزبانی قطر کے پاس ہے۔جس کی فول پروف سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیئے قطر ی حکومت کی طرف سے باقاعدہ پاکستانی حکومت سے مدد کی درخواست کردی گئی ہے۔ جو اِس بات کا بین ثبوت ہے کہ قطر دنیا بھر میں سب سے زیادہ اعتماد صرف اور صرف ریاستِ پاکستان اور اس کے ریاستی اداروں پر ہی کرتا ہے۔جب ہی تو قطر اپنی تاریخ کے سب سے بڑے ایونٹ کی حفاظت کی ذمہ داری ریاستِ پاکستان کو سونپنے جارہاہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اور قطر کے مابین قائم ہونے والے حالیہ روابط سے اکثر پاکستانیوں کے ذہنوں میں پرورش پانے اِس مذموم مغالطہ کا بھی ازالہ ہوگیا ہے کہ قطر ی حکومت کے پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کسی ایک سیاسی خاندان کے مرہون ِ منت ہیں۔ماضی میں پاکستان کے کئی حکمرانوں کی جانب سے قطر اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات کو اپنے ذاتی کاروبار اور سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیئے بے رحمی سے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔جس کی وجہ پاکستانی اور قطری عوام کے بیچ غلط فہمیوں کی ایک خلیج پیدا ہوتی جارہی تھی،لیکن اب پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ امیر قطر کے حالیہ دورہ پاکستان سے دونوں ملکوں کے عوام کو جہاں اِس خلیج کو پاٹنے کا موقع میسر آئے گا وہیں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کے مزید فروغ کی نئی راہیں بھی کھلیں گی۔

حوالہ : یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 04 جولائی 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں