Lady Health Worker in Sindh

کیا لیڈی ہیلتھ ورکرز کا احتجاج رنگ لائے گا؟

مشرق کی بیٹی کے نام سے شہرت ِ دوام حاصل کرنے والی شہید بے نظیر بھٹو جب 1994 میں پاکستان کی وزیراعظم منتخب ہوئی تو انہوں نے خواتین کو باعزت روزگارفراہم کرنے کے لیئے کئی منصوبے اپنی سرپرستی میں شروع کیئے جس میں سرفہرست”وزیراعظم کا پروگرام برائے فیملی پلاننگ اور بنیادی صحت“ کے تحت ایسا تربیتی پروگرام بھی تھا جس میں خواتین بطور لیڈی ہیلتھ ورکرزاپنے گھرکے قرب وجوار میں باعزت روزگارحاصل کرسکتیں تھیں۔ اس پروگرام سے پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ پاکستان کی پسماندہ اور دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین جو کئی دہائیوں سے بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم تھیں، انہیں گھر بیٹھے صحت کی تمام بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔مگرافسوس بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کا جو بھی دورِ حکومت آیا اس میں بے نظیر بھٹو کی طرف سے اپنے منشور اور اس میں دیئے گئے عورتوں کی فلاح و بہبود کے پروگراموں سے ہمیشہ صرفِ نظر کیا گیا۔حتی کہ شہید بے نظیر بھٹو کا یہ سب سے کامیاب اور ہر دلعزیز پروگرام بھی پورے پاکستان میں بالعموم اور سندھ بھر میں بالخصوص عدم توجہی کا شکار رہا۔
سندھ کی 25 ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز 23 سالوں سے تاحال مستقل ہونے کی منتظر ہیں اور اس وقت سندھ کے مختلف شہروں میں ایک ماہ سے اس بات پر سراپا احتجاج ہیں کہ انہیں 1994  سے نہ تومستقل کیا جا رہا ہے اور نہ ہی سنیارٹی دی جارہی ہے،جبکہ افسران بالا کی طرف سے انہیں وقتا فوقتاً ہراساں کرنا ایک الگ سنگین مسئلہ ہے۔بے نظیر شہید نے جب اس پروگرام کا آغاز کیا تھا تو ابتدائی طور پر لیڈی ہیلتھ ورکر کی ماہوار تنخواہ 1000 روپے رکھی گئی تھی، نوازشریف کے دورحکومت میں میں اس پروگرام کا نام بدل کر ”قومی پروگرام برائے فیملی پلاننگ اور بنیادی صحت“ رکھ دیاگیا اور لیڈی ہیلتھ ورکر کی ماہانہ تنخواہ 1400 روپے ماہوار کر دی گئی۔پرویزمشرف کے دورِ حکومت میں بھی یہ پروگرام اپنی افادیت کی بناء پر بدستور جاری رہا اور لیڈی ہیلتھ ورکر کی ماہوار تنخواہ 3000 روپے تک کر دی گئی۔ 2007 ؁ء میں جب سید یوسف رضا گیلانی وزیراعظم اور آصف علی زرداری صدر پاکستان کے عہدے پر براجمان ہوئے تب حیران کن طور پرلیڈی ہیلتھ ورکرز کی تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
یہ ہی وہ وقت تھا جب لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنی ملازمت کو مستقل کرنے کے لیئے ملک گیر جدوجہد کا آغاز کیا۔ 2009 میں لیڈی ہیلتھ ورکرز نے مستقل نہ کئے جانے کے خلاف سندھ پنجاب کی سرحد پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا جو جو دو دن تک جاری رہا۔جس پر حکومت کی طرف سے بدترین لاٹھی چارج کیا گیاجس سے یہ احتجاج اور دھرنا منتشر ہو گیالیکن اس میں بے شمار خواتین پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمے درج کیئے گئے اور تقریبا ً 30 سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکرز کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیاگیا۔2010  میں پورے پاکستان سے قومی پروگرام برائے فیملی پلاننگ اور بنیادی صحت کے ملازمین نے مختلف درخواستوں کے ذریعے سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل کیا جائے۔جس پر اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے نوٹس لیا اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تنخواہ 7000 ماہوار کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مستقل کرنے کے احکامات بھی جاری کیئے۔مگر سپریم کورٹ کے یہ احکامات بدستور حکومتی بے حسی کا شکار رہے،جس پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف سندھ کے مختلف شہروں کراچی، حیدرآبادسمیت ملک کے دیگر شہروں میں اُس وقت بھی کئی دھرنے دیئے گئے، مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور یہ تمام دھرنے بے نتیجہ ثابت ہوئے۔
بالآخر 2012 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے پورے پاکستان کے لیڈی ہیلتھ ورکرز،سپروائزر،ڈرائیورز اور دیگر اسٹاف کو مستقل کرنے، سینارٹی اسکیل دینے اور تنخواہیں ٹریژری سے دینے کے تفصیلی احکامات جاری کئے۔لیکن ان احکامات کو بھی جاری ہوئے7 سال گزر چکے ہیں مگر سندھ میں ان احکامات پر کوئی عمل درآمد نہ ہوسکا۔جبکہ صوبہ پنجاب میں حکومت ِ پنجاب کی طرف سے2016 میں سپریم کورٹ کے حکم کے عین مطابق لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے پچاس ہزار سے بھی زائد ملازمین کو مستقل کردیا گیا۔پنجاب حکومت کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق لیڈی ہیلتھ سپروائزر کو گریڈ سات، اکاوٗنٹس سپروائزر کو گریڈ سات،لیڈی ہیلتھ ورکرز کو گریڈ پانچ،اور ڈرائیورز کو گریڈ چار میں ملازمت مستقل کر کے سرکاری ملازم کا باقاعدہ درجہ دے دیا گیا۔ اچھی بات یہ ہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو پنجاب سول سروس ایکٹ کے تحت سرکاری ملازم کا درجہ ملااور ریگولرائزیشن کا اطلاق بھی یکم جولائی 2012 سے کیا گیا۔
جبکہ آج بھی صوبہ سندھ میں یہ صورت حال ہے کہ سندھ بھر کے مختلف علاقوں خیر پور ناتھن شاہ،میھڑ،کولاچی، گوزو میر حسن ابراہیم اور دیگر علاقوں میں سخت گرمی اور روزہ کی حالت میں اپنے معصوم بچوں کے ساتھ ایک ماہ سے لیڈی ہیلتھ ورکرزمسلسل احتجاجی مظاہرے اور دھرنے میں بیٹھی ہوئی ہیں۔جس میں ان کی طرف سے 5 گھنٹے روزانہ علامتی بھوک ہڑتال بھی کی جارہی ہے۔مختلف علاقوں میں کیئے جانے والے یہ احتجاجی مظاہرے اور دھرنے رابعہ ناریجو،پروین کھوکھر،نوربانو ملاح،نصرت گوپانگ، شہناز منگی اور رخسانہ عباسی کی قیادت میں کئے جارہے ہیں۔مظاہرین کاکہنا ہے کہ ”ہم 19 دنوں سے مسلسل اس سخت گرمی میں اپنے بچوں کے ہمراہ دھرنے میں سراپا احتجاج ہیں مگر افسوس کی بات ہے خواتین کے حقوق کی دعویدار سندھ حکومت کا کوئی بھی نمائندہ تاحال ہم سے رابطہ کے لیئے نہیں آیا۔مگر ہم بھی ہمت نہیں ہاریں گے جب تک ہمارے تمام مطالبے عین سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں نہیں مانیں جائیں گے تب تک ہم احتجاج،دھرنا اور علامتی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔ہم 24 سالوں سے گھر گھر جاکر عورتوں اور بچوں کو صحت کی بنیادی سہولیات، طبی علاج معالجہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ گھریلو عورتوں کو عملی تربیت بھی فراہم کر رہی ہیں۔جبکہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا بھی ہماری ہی ڈیوٹی میں شامل ہے۔بے نظیربھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی میں جاگیر دار اور سرمایہ دار چھا گئے ہیں شاید اسی لیئے سندھ حکومت میں کوئی بھی منتخب نمائندہ ایسا نہیں جو ہم، مظلوم اور محنت کش خواتین کے لیئے اسمبلی میں آواز اُٹھا سکے“۔
ایک طرف تو سندھ میں دوسرے صوبو ں کے برعکس لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ سندھ میں ماں اور بچوں کی شرح اموات انتہائی زیادہ ہے، سندھ میں ایک لاکھ خواتین جب زچگی کے عمل سے گزرتی ہیں تو دوہزار سے زائد مائیں موت کی آغوش میں چلی جاتی ہیں۔ایک ہزار نوزائیدہ بچوں میں سے 97 بچے دوران ِ زچگی فوت ہوجاتے ہیں جبکہ ایک ہزار زندہ پیدا ہوجانے والے بچوں میں سے بھی 150 سے زائد بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، اسی طرح ایک ہزار بچوں میں سے 200 بچے پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے انتقال کر جاتے ہیں۔یہ شرح اموات انتہائی شرمناک ہے۔ماں اور بچوں کی شرح اموات کو کم کرنے میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا انتہائی کلیدی کردار ہے کیونکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنی کمیونٹی میں ہر وقت موجود رہتی ہیں اور بروقت حاملہ خواتین کو زچگی کے دوران مدد کرتے ہوئے ماں اور بچے کی زندگی کو لاحق خطرے سے بچاسکتی ہیں۔ ضرور ت اس امر کی ہے کہ سندھ میں لیڈی ہیلتھ ورکر ز کو پنجاب حکومت کی طرز پر فی الفور نہ صرف مستقل کیا جائے بلکہ سندھ کے معروضی حالات مدنظر رکھتے ہوئے ان کی تعدادمیں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 18 جون 2017 کے شمارے میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں