Abdul Abdullah modi India Afghanistan in meeting

جب افغانستان بنا بھارتی مفادات کا قبرستان

امریکا نے جب سے افغانستان سے اپنی افواج کے انخلاء کا حتمی فیصلہ کیا ہے،تب سے ہی بھارت کا افغانستان میں سیاسی کردار اور اثرورسوخ مکمل طور پر مخدوش ہوگیا ہے۔ بظاہر اس حقیقت کا ادراک بھارتی قیادت کو بھی بخوبی ہے لیکن اس کے باوجود بھی نہ جانے کیوں بھارت افغانستان میں رونما ہونے والی نئی سیاسی حقیقت کو کسی بے وقوف کبوتر کی طرح من و عن تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ شاید اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ دودہائیوں میں بھارت کی جانب سے افغانستان میں کی گئی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اچانک سے ضائع ہونے کے غم نے بھارتی قیادت کو ایسا ناقابلِ برداشت صدمہ پہنچایا ہے کہ اُس کے اوسان اور اعصاب مکمل طور پر شل ہوچکے ہیں۔نیز روز بہ روز افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے سیاسی و انتظامی اثرو رسوخ نے بھارت کوایک بار پھر سے 1996 کے اُس پرانے مقام پر لاکھڑا کیا ہے۔جہاں سے کبھی بھارت نے براستہ افغانستان پاکستان پر غلبہ پانے کے سفر کا آغاز کیا تھا۔ مگر افسوس بھارتی قیادت کا 19 سالہ یہ تمام سفر رائیگاں ہی رہا۔یعنی نہ خدا ہی ملا اور نہ وصال صنم۔ جبکہ بھارت کے مقابلہ میں پاکستان ایک بار سے طالبان کے ہمراہ افغانستان میں اپنے اثرو رسوخ کا دائرہ کار آہستہ آہستہ پھیلاتا جارہاہے۔یہ ہی وہ تلخ حقیقت اور سیاسی دُکھ ہے۔ جسے برداشت کرنا یا سہہ پانا بھارتی قیادت کے لیئے ناممکن ہوچکاہے اور اَب اپنے اسی دُکھ کو کچھ کم کرنے کے لیئے بھارت دوحہ میں طالبان اور افغان حکومت کے مابین وقفے وقفے سے ہونے بین الافغان مذاکرات پر اثرانداز ہونے کی شدید ترین خواہش رکھتا ہے۔ جس کے لیئے خصوصی دعوت پر افغان رہنماؤں کو بار بار بھارت کے دورے کروائے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بھارت کی سائنسی جہالت

گزشتہ چند ہفتوں میں یکے بعد دیگرے بھارت کا دورہ کرنے والے افغان رہنماؤں میں صوبہ بلخ کے سابق گورنر عطا محمد نور، سابق نائب صدر مارشل عبدالرشید دوستم اور افغانستان میں قومی مفاہمت کی ہائی کونسل کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ جیسی اہم ترین شخصیات شامل ہیں۔ واضح رہے کہ اِن سب افغان رہنماؤں میں کم ازکم دو صفات ایسی پائی جاتی ہیں،جن کابھارت تہہ دل سے گرویدہ ہے۔ اول یہ ہے کہ یہ تمام افغان رہنما ہمیشہ سے بھارت نواز رہے ہیں اور دوم یہ کہ ان میں سے ہر رہنما ماضی میں نہ صرف طالبان کا سخت مخالف رہا ہے بلکہ بعض تو طالبان کے خلاف میدان جنگ میں لڑبھی چکے ہیں۔ مثال کے طور پر 21 اکتوبر کو بھارت کا سرکاری دورہ کرنے والے جنرل عطا محمد نور، جہاں افغانستان میں بھارت کے انتہائی قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ وہیں موصوف اسلامی سوسائٹی آف افغانستان (جمعیت اسلامی افغانستان) کے چیف ایگزیکٹو بھی ہیں اور احمد شاہ مسعود کے شمالی اتحاد میں سابق کمانڈر رہتے ہوئے انھوں نے 1996 میں طالبان کے خلاف کئی محاذوں باقاعدہ جنگیں بھی لڑچکے ہیں۔ تاہم بھارتی عوام کے نزدیک جنرل عطا محمد نور کا سب سے بڑا کارنامہ 2016 میں صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف میں بھارتی قونصل خانے پر ہونے والے حملے کے دوران بھارتی سفارت کاروں کی حفاظت اور دفاع کے لیے طالبان مجاہدین کے خلاف ہتھیار اُٹھانا ہے۔ انہیں اس واقعے کے بعدبھارت میں زبردست پذیرائی اور شہرت حاصل ہوئی تھی۔ جنرل عطامحمد نور کے بارے میں یہاں تک کہا جاتاہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جس افغانی شخصیت پر سب سے زیادہ اعتبار کرتے ہیں۔وہ یہ ہی موصوف ہیں اوردلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل عطا محمد نور کا بیٹا خالد نور بین الافغان مذاکرات کے لیے افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ بنانے میں بھارت نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا تھا۔کیونکہ بھارتی قیادت سمجھتی ہے کہ خالد نوربین الافغان مذاکرات میں بھارتی مفادات کا کسی نہ کسی حدتک تحفظ کرنے میں اپنا اہم ترین کردار ضرور بالضرور نبھائے گا۔

بھارت کی اصل کوشش بھی یہ ہی ہے کہ بین الافغان مذاکرات کو کسی بھی طرح سے کامیابی سے ہمکنار نہ ہونے دیا جائے اور اس کے لیئے بھارت خالد نور کے ذریعے بین الافغان مذاکرات کو زیادہ سے زیادہ طول دینے کا مذموم ہتھکنڈا استعمال کررہا ہے۔ کیونکہ بھارتی قیادت اور طالبان مخالف افغان رہنما سمجھتے ہیں کہ حالیہ امریکی انتخابات میں اگر ڈونلڈ ٹرمپ شکست کھاجاتے ہیں اور ان کی جگہ جو بائیڈن امریکا کے نئے صدر بننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہوسکتاہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے فیصلہ کو تبدیل کروالیا جائے۔حالانکہ ہماری رائے کے مطابق یہ ایک خام خیالی ہے کیونکہ امریکا میں سیاسی،سفارتی اور معاشی پالیسیاں انتہائی سوچ و بچار کے بعد بنائی جاتی ہیں اور کسی نئے حکمران کے اقتدار میں آنے یا پرانے حکمران کے ایوانِ اقتدار سے رخصت ہوجانے سے امریکی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوا کرتیں۔ اس لیئے بھارتی قیادت اور طالبان مخالف افغان رہنماؤں کو خاطر جمع رکھنی چاہئے کہ حالیہ امریکی انتخابات کے نتائج کا منفی اثر کسی بھی صورت میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے فیصلہ پر نہیں پڑے گا۔ہاں یہ ضرور ہو سکتاہے کہ امریکی افواج کے مکمل انخلاء میں کچھ تاخیر ہوجائے۔ بہرحال جوبائیڈن کے نئے امریکی صدر بننے کے بعد امریکہ اور طالبان کے مابین ہونے والے مذاکرات پر اس سے زیادہ منفی اثرات کی توقع رکھنا بالکل عبث ہے۔

دوسری جانب جنرل عطا محمد نور سے پہلے مارشل عبد الرشید دوستم نے بھی ستمبر میں نئی دہلی کا دورہ کیا تھا۔یادرہے کہ عبدالرشید دوستم کے ساتھ مارشل کا لاحقہ کچھ عرصہ قبل ہی لگایا جانے لگا ہے۔جس کا مختصر ساقصہ کچھ یوں ہے کہ افغان صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبد اللہ عبد اللہ کے مابین اقتدار میں شراکت کے معاہدے کے تحت نسلی ازبک جنگجو دوستم کو رواں سال کے شروع میں مارشل کا درجہ دے دیا گیا تھا۔عبدالرشید دوستم کو مارشل کا اعزازی رتبہ دینے کا بنیادی مقصد عبدالرشید دوستم کو خوش کرنے کے ساتھ ساتھ طالبان مجاہدین کو یہ بھی باور کروانا تھا کہ عسکری محاذ پر افغان مجاہدین میں سب سے برتر،بہادر اور کامیاب کمانڈر عبدالرشید دوستم ہی ہے۔حالانکہ یہ صرف ایک لفظی اعزاز ہے۔جس کی طالبان مجاہد ین کو ذرہ برابر بھی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ میدان جنگ میں بڑے بڑے القابات کام نہیں آتے۔بہرکیف بھارت کے نزدیک مارشل عبدلرشید دوستم کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔کیونکہ یہ شخص بھارتی قیادت کا پلان بی ہے۔ یعنی اگر بھارت افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا ء رکوانے میں کامیاب نہ ہوسکا یا طالبان کے اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ اپنا انتظامی اثرو رسوخ افغانستان پر برقرار نہ رکھ سے تو پھر بھارت مارشل عبدالرشید دوستم کے ذریعے افغانستان میں طالبان مخالفت جنگجوؤں کی مدد سے خانہ جنگی کروانے کی بھرپور کوشش کرے گا۔ اپنے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیئے بھارتی قیادت کے پاس مارشل عبدالرشید دوستم سے بہتر کوئی دوسرا آپشن فی الحال موجود نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق مارشل عبدالرشید دوستم کو طالبان مخالف جنگجوؤں سے روابط استوار کرنے کی ذمہ داری تفویض کردی گئی ہے۔ جبکہ مارشل عبدالرشید دوستم کی امداد کے لیئے بھارت نواز افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کوبھی اپنے تمام وسائل صرف کرنے کا کہہ دیا گیا ہے۔

ا مارشل عبدالرشید دوستم کے علاوہ گزشتہ ہفتے افغانستان میں قومی مفاہمت کی ہائی کونسل کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ کا دورہ بھارت کا بنیادی ہدف طالبان قیادت تک بھارتی قیادت کی آسان رسائی کو یقینی بنانا ہے۔کیونکہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ طالبان کی حالیہ قیادت سے بہت زیادہ نہیں تو بہرحال کچھ نہ کچھ روابط تو ضرور رکھتے ہی ہیں۔واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا ہے کہ جب بھارت طالبان کے ساتھ اپنے سفارتی روابط قائم کرنے کی کوشش کر نا چاہ رہا ہے۔ آج سے 19 برس قبل بھی جب افغانستان میں طالبان کی حکومت ہوا کرتی تھی۔تب بھی بھارت کی جانب سے طالبان کی طرف سفارتی تعلقات کا ہاتھ بڑھانے کی بے شمار سنجیدہ کوششیں کی گئی تھیں۔ لیکن طالبان اس لیئے اُس وقت بھارت کے جھانسے میں نہیں آئے تھے کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اُن کے مخالف گروہ شمالی اتحاد کی پشت پناہی کرنے والا ایران کے بعد اگر کوئی دوسرا ملک ہے تو وہ بھارت ہے۔لہٰذا طالبان نے بھارت کے ساتھ اپنے روابط استوار کرنے سے صاف انکار کردیا تھا۔ یہ ہی کچھ صورت حال آج بھی بدستور قائم ہے اور طالبان قیادت کو ابھی بھی صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بین الافغان مذاکرات میں وہ جن افغان رہنماؤں کے ساتھ بھی گفت و شنید کررہے ہیں،اُن کی پشت پر کسی نہ کسی شکل میں بھارت کا دستِ شفقت موجود ہے۔ شاید اسی لیئے ڈاکٹر عبداللہ عبد اللہ نے اپنے حالیہ دورہ بھارت کے دوران وزیراعظم نریندر مودی، وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول سے طویل ترین ملاقاتیں کرنے کے بعدبھارتی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اگر بھارت کی اعلی قیادت نے طالبان سے بات چیت کرنے کا کسی بھی سطح پر فیصلہ کیا تو افغان قیادت کو کوئی خدشات نہیں ہوں گے“۔

مزید پڑھیں: بھارت کے تابوت میں آخری کیل کشمیر

مگر یہاں سوال افغان قیادت کو لاحق خدشات کا نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ افغان طالبان کے خدشات کا ہے۔جو بھارت سے روابط قائم کرنے کے بعد کم نہیں ہوں گے بلکہ مزید بڑھ جائیں گے۔ علاوہ ازیں بھارت کا افغانستان میں انتظامی و سفارتی عمل دخل دہشت گردی کو فروغ دینے کا باعث بھی بن سکتاہے۔ اس لیے ہمیں یقین ہے کہ افغان طالبان افغانستان میں اپنااقتدار مستحکم کرنے کے بعد جو سب سے پہلا کام کریں گے وہ بھارت نواز افغان رہنماؤں اور این ڈی ایس جیسی دہشت گرد ی کی سرپرستی کرنے والے خفیہ وظاہری عناصر کی جڑیں کاٹنا ہی ہوگا اور یاد رہے کہ طالبان یہ ضروری کام فقط اپنی بقا کے لیئے ہی انجام دیں گے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ افغان رہنما تو افغانستان سے آکر بھارت میں اپنی حکومت قائم کرسکتے ہیں لیکن بھارت سے مودی سرکار کے ہرکارے جاکر افغانستان کے کسی علاقہ پر اپنا قتدار قائم کرلیں۔اتنی ہمت چانکیہ کے چیلوں میں نہ تو پہلے کبھی تھی،نہ آج ہے اور نہ ہی کبھی آئندہ ہوگی۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 12 نومبر 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں