Burial Box of NAB

احتساب کی موت۔۔۔؟

کہا جاتا ہے کہ گزرے وقتوں میں بغداد پر ایک انتہائی رحم دل بادشاہ حکومت کیا کرتا تھاجس نے ایک نہایت خوبصورت باز پال رکھا تھا جس سے وہ شکار کا کام لیا کرتا تھا۔ باز بادشاہ کا بے حد وفادار اور اس کے اشاروں پر چلتا تھا۔ ایک دن بادشاہ جنگل میں شکار کے لیئے گیا ہوا تھا کہ اچانک زبردست قسم کی آندھی آئی جو اپنے ساتھ باز کو بھی اُڑا کر لے گئی۔آندھی رکنے کے بعد بادشاہ کے وفادار سپاہیوں نے جنگل میں اِدھر،اُدھر باز کو بہت تلاش کیا لیکن باز نے نہ ملنا تھا سو نہ ملا۔ بادشاہ نے ملک بھر میں ڈھنڈورا پٹوا دیا کہ جو اُس کے ہردلعزیز شکاری باز کو لاکر دے گا،اُسے سرکار دربار کی طرف سے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔اعلانِ شاہی کے بعد ملک بھر میں باز کی تلاش شروع ہوگئی۔اُدھر باز آندھی کے باعث ایک بُڑھیا کی جھونپڑی میں جا گرا تھا۔ بُڑھیا ناسمجھ اور جاہل تھی۔ پس اس نے باز کو اپنی جھونپڑی میں پڑے دیکھا تو وہ اُسے چیل سمجھ بیٹھی اور باز سے مخاطب ہوکر کہنے لگی ”بدبخت چیل، تو کِن ناسمجھ لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی تھی؟ جنھوں نے تیرے پروں کی تراش خراش کی نہ تیرے ناخن کاٹے اور نہ تیری ٹیڑھی چونچ کو سیدھا کیا“۔ سو اس بڑھیا نے باز کی چونچ، پروں اور ناخن کو کاٹ کر واقعی اُسے ایک بے ضرر سی چیل میں بدل دیا۔ایک ماہ بعد بادشاہ کے کارندے باز کو ڈھونڈتے ہوئے بُڑھیا کی جھونپڑی تک پہنچے اور باز کو لے کر بادشاہ کی خدمت میں پیش کردیا۔بادشاہ نے باز کی نئی تبدیل شدہ حالت دیکھی تو کہنے لگا کہ ”جب کئی کوئی نااہل شخص کسی شئے کے درست مقام کو سمجھ نہیں پاتا تو پھر اُس کا یہ ہی حال کرتا ہے“۔شیخ سعدی کی یہ حکایت آج کل من و عن تحریک انصاف کی حکومت پر منطبق ہوتی ہے۔ کیونکہ وزیراعظم کی مسند پر براجمان ہونے سے پہلے عمران خان کے پاس بھی ایک احتساب کا باز ہوا کرتا تھا۔جس کے اوصاف کے بارے میں عمران خان کی طرف سے پاکستانی عوام کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ احتساب کا یہ باز کرپشن زدہ اشرافیہ کا شکار کر کے غریب عوام کرپشن کے پنجہ استبداد سے چھڑائے گا۔پاکستانی عوام نے احتساب کے اِس باز کی معرکتہ الآراء قصہ کہانیاں سُن کر ہی عمران خان کو ایوانِ اقتدار تک جانے میں دامے،ورمے،سخنے مدد فراہم کی تھی۔

سچی بات تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے ایک سال بعد تک احتساب کے باز سے خوب کام بھی لیا اور احتساب کے اِس باز نے عمران خان کے کرپشن مخالف منشور کے عین مطابق بڑے بڑے کرپشن زدہ افراد کو بڑی بے رحمی کے ساتھ اپنا شکار بھی بنایا۔ جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں پائی جاتی تھی۔ احتساب کے باز شکار کی صلاحیت کو دیکھنے کے بعد آہستہ آہستہ پاکستانی عوام کو یہ اُمید ہوچلی تھی کہ آئندہ چند برسوں میں ہی احتساب کا یہ باز پاک سرزمین سے کرپشن زدہ افراد کا مکمل طور پر خاتمہ کردے گا۔ لیکن پھر یہ ہوا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اقتدار کی بھول بھلیوں میں ایسا گم ہوئے کہ انہوں احتساب کا یہ باز، نگہہ داشت کے لیئے اپنے باکمال مشیروں کے سپرد کر دیا۔ حکومتی مشیر ویسے ہی احتساب کے اِس باز کی احتسابی معرکہ آرائیوں سے سخت پریشان تھے۔سو انہوں نے احتساب کے اِس باز کے پر کترنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے اور آنے والے چند ہی دنوں میں احتساب کے باز کے پروں کی تراش،خراش اور تیز دھار نوکیلے ناخنوں کو کاٹ کر بالکل سپاٹ کریا جائے گا۔جبکہ احتساب کے باز کی خون خوار ٹیڑھی چونچ کو سیدھا کر کے اِس پر اچھی طرح صدارتی آرڈیننس کا رندہ پھیرنے کی بھی مکمل طور پر تیاری کرلی گئی ہے۔ تاکہ آئندہ نئے پاکستان میں احتساب کے باز کی چونچ کسی کرپشن زدہ فرد کو گزند پہنچانے کے قابل نہ رہ سکے۔ احتساب کے باز کی نئی تبدیل شدہ حالت ِ زار کی خبریں جہاں کرپشن زدہ افراد کے لیئے مسرت کا پروانہ ثابت ہورہی ہیں وہیں پاکستان کی عوام کے ذہنوں پر تازیانہ بن کر برس رہی ہیں۔
نیب یا قومی احتساب بیورو جسے عمران خان اور اِن کی جماعت تحریک انصاف نے پہلی بار مکمل اختیارات کے ساتھ کھل کر احتساب کرنے کا حوصلہ دیا تھا۔ اَب وہی عمران خان کابینہ اجلاسوں میں اپنے مشیر باتدبیروں سے نیب کے ادارے کو حاصل ہونے والے اختیارات کی کاٹ چھانٹ کرنے لیئے تجاویز طلب کررہے ہیں۔حکومتی زعماء اور مشیروں کی طرف سے وزیراعظم پاکستان کو دلائل و براہین کی مدد سے یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جب تک نیب سے احتساب کرنے کی طاقت نہیں چھینی جائے گی،کوئی بیوروکریٹ،کوئی تاجر اور کوئی غیرملکی سرمایہ کار پاکستان میں خوش دلی کے ساتھ اپنا کام کرنے پر راضی نہیں ہوگا۔ یعنی اِس دلیل کا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں کاروبارِ حکومت کو چلانے کے لیئے ضروری ہے سیاست دانوں،حکومتی عمائیدین،بیوروکریٹ،تاجر برادری اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو کرپشن کرنے کے لیئے کُھلی آزادی اور ساز گار ماحول فراہم کیا جائے۔



اَب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مستقبل قریب میں عمران خان اور اُن کی حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل احتساب کے باز کے سب بال و پَر کترنے میں کامیاب ہوجائے گی؟ اور کیا تمام کرپشن زدہ بہت جلد پھر سے غریب و مقہور پاکستانی عوام پر حکومت کرنے لیئے آزاد ہونے والے ہیں؟۔بظاہر تو حکومت اور اپوزیشن کے ارادے دیکھ کر ایسا ہی لگتا ہے کہ یہ سب بہت آسانی کے ساتھ ہوجائے گا اور احتساب کے باز کو بے بال و پَر کر کے آخر کار موت کے گھاٹ اُتار دیا جائے گالیکن ہم جیسے احتساب پسند چند لوگوں کو یہ توقع بھی ضرور برقرار رکھنی چاہیئے کہ آزاد اعلیٰ عدلیہ کے ہوتے ہوئے پاکستان میں چلنے والا احتساب کا پہیہ روکنا شاید اِتنا آسان نہ ہو جتنا حکومت اور اپوزیشن نے اپنی دانست میں سمجھ لیا ہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 09 ستمبر 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں