18th Amendment in Pakistan Constitution

اٹھارویں ترمیم کی 9ویں سالگرہ

  نو سال قبل ٹھیک آج ہی کے دن 8 اپریل 2010 کو وفاقِ پاکستان کی طرف سے صوبوں کو اٹھارویں ترمیم کا تحفہ اس حسنِ نیت کے ساتھ ”جمہوری پلیٹ“ میں رکھ کرپیش کیا گیا تھا کہ صوبائی اختیارات سے لبریز اِ س تحفہ کی کامیاب وصولی کے بعد صوبوں کا وفاقِ پاکستان کے ساتھ اعتبار و اعتماد کے پکے دھاگہ سے بُنا ایک نیا رشتہ وجود میں آئے گااور اِس آئینی تحفہ کی بدولت صوبوں کے دل و دماغ میں پنپنے والی برسوں پرانی”سیاسی رنجشوں“ کے رفع کرنے میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی۔شومئی قسمت کہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے 9 برس گزرنے کے باوجود بھی وفاقِ پاکستان اور صوبوں کے درمیان حائل اعتماد کے فقدان کی خلیج کو پاٹا نہ جاسکا،یوں آج کے دن تک بھی صوبوں کی طرف سے وفاقِ پاکستان سے متعلق وہی شکایات سے مرصع و مزین طعن آمیز گفتگو اور بیانات سننے کے مل رہے ہیں جو 9 سال پہلے وفاقِ پاکستان اور اِس کے متعلقہ اداروں کو سننے کو ملتے تھے۔ کسی ضدی بچے کی طرح صوبوں نے وفاقِ پاکستان کے ناتواں ہاتھوں سے ”اٹھارہویں ترمیم“ کا من پسند کھلونا ہتھیا تو لیا لیکن اس کھلونے کے ملنے کے بعد صوبوں نے مطمئن تو خیر سے کیا خاک ہونا تھا اُلٹا اِن کی بے اطمینانی اور اختیارات کی ہوس میں روز افزوں اضافہ ہوتا جارہاہے۔کتنی حیرانی کی بات ہے کہ”اٹھارہویں ترمیم“ کی منظوری سے پہلے وفاق ِپاکستان کے خلاف کی جانے والی گفتگو اور آج کی گفتگو میں مجال ہے جو ذرہ برابر بھی فرق آیا ہو بلکہ اگر یہ کہا جائے ماضی کے مقابلے میں وفاقِ پاکستان اور اُس کے اداروں کے خلاف اختیار کئے جانے والے لہجہ میں ترشی و درشتگی پہلے سے زیادہ ہی بڑھ گئی ہے تو کچھ بے جا نہ ہوگا۔یعنی وفاقِ پاکستان اپنے سارے اختیارات صوبوں کو تفویض کر کے بھی صوبوں کے سامنے اَب بھی روز ایک مجرم کی طرح کٹہرے میں پیش ہوتا ہے، جبکہ صوبوں کی طرف سے ”ھل من مزید“ کی وہی پرانی تکرار جاری ہے۔

اگر کبھی لمحہ بھر کی فرصت ملے تو ضرور یاد کیجئے گا کہ صوبوں نے9 برس قبل وفاقِ پاکستان کے ہاتھوں سے اٹھارویں ترمیم کاوراثت نامہ اپنے نام پر لکھواتے ہوئے وفاقِ پاکستان کو کیا کیا سنہری خواب دکھائے تھے۔صوبوں کی طرف سے پورے دل و جاں سے یقین دلایا گیا تھا کہ وہ اٹھارویں ترمیم کا پروانہ لینے کے بعد وفاقِ پاکستان کو نہ صرف ماضی کی بہ نسبت مضبوط تر بنائیں گے بلکہ اپنے برسوں پرانے شکوہ و شکایت کے طعنوں کو شکر گزاری کے مسحور کُن گیتوں سے بدل دیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وفاقِ پاکستان کے کندھوں سے بھاری بھرکم اداروں کا بوجھ اُتار کر اپنے کندھوں پر لیں گے۔تاکہ وفاقِ پاکستان کو بھی کچھ سکون کا سانس مل سکے اور وفاقی ادارے بھی صوبوں کی چھتر چھایہ میں خوب پھل پھول سکیں۔وعدے اتنے دلفریب اور خوش کُن تھے کہ وفاقِ پاکستان نے بلاسوچے سمجھے ہی اپنے تمام تر آئینی اختیارات اٹھارویں ترمیم کی شکل میں صوبوں کو منتقل کردیئے۔یہ کہانی بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک باپ اپنے بچوں کے بڑے ہونے کے بعد اُن کے دیرینہ مطالبہ پر اپنا تمام کاروبار اور جائیداد کو اپنے بچوں میں برابر،برابر تقسیم کر کے خود کواِن کی کفالت میں دے دیتا ہے۔یہ سوچ کر کہ ”میں نے بہت ذمہ داریاں اُٹھالیں اَب میرے بچے میری ذمہ داریوں سے انتہائی خوش اسلوبی سے عہدہ براہوں گے“۔مگر شاید ایسے ہی کسی المناک موقع پر نہ جانے کیوں ایک دانشور کی یہ بات یاد آجاتی ہے کہ ”ایک باپ پانچ بچوں کو تو ہنسی خوشی پال سکتا ہے لیکن پانچ بچے باہم مل کر بھی اپنے ایک باپ کو نہیں پال سکتے“۔ کچھ ایسا ہی ملتا جلتا اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد وفاقِ پاکستان کے ساتھ بھی ہورہاہے۔

اٹھارویں ترمیم سے بھرپور انداز میں استفادہ کرنے والے اِسے وطنِ عزیز کی 70 سالہ تاریخ کا ایک ”جمہوری میگنا کارٹا“ قرار دیتے ہیں۔ اِن کے بقول اٹھارویں ترمیم کے ”میگناکارٹا“ کے نفاذ نے صوبوں کو پہلی بار غیر معمولی آئینی اختیارات سے بہرہ مند کیا اور اُن کا یہ دعوی شاید کچھ اتنا بے جا بھی نہیں کیونکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری نے صوبوں کو واقعی بہت سے ایسے بنیادی حقوق بھی فراہم کیئے جس کے وہ روزِ ازل سے ہی حقیقی حقدار تھے۔اِس لیئے یہ بحث ہی فضول ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو وفاقِ پاکستان کے آئینی اختیارات اور منافع بخش ادارے کیوں دیئے گئے؟ بلکہ اہم ترین سوال یہ ہے کہ آئینی اختیارات حاصل کرنے کے بعد اِن غیر معمولی اختیارات کو صوبوں نے اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لیئے کیوں استعمال نہیں کیا؟یا یہ کہ وفاقی اداروں کو اپنے زیرِ انتظام کرلینے کے بعد صوبوں نے اِن کے ساتھ کس قسم کا سلوک روا رکھا؟اگر فقط اِن دو سوالات کے ہی جوابات حاصل کرنے کے لیئے گزشتہ 9 سال کے اعدادو شمار پر ایک طائرانہ سی نظر دوڑائی جائے تو منکشف ہوتا ہے کہ ایک بھی صوبے نے اٹھارویں ترمیم کے ثمرات کو نچلی سطح پر منتقل نہیں ہونے دیا۔ مثال کے طور اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں پر لازم تھا کہ وہ محکمہ جاتی اختیارات کو ضلع کونسل،یونین کونسل اور ٹاؤن کونسل کی سطح پر منتقل کر کے اپنے پسماندہ علاقوں کی عوام کو بھی با اختیار بنائیں گے۔مگر یہ تو تب ہوتا نا! جب اختیارات لینے والوں کے پیشِ نظر عوام کو بااختیار بنانا بھی کوئی قابلِ تحسین کام ہوتا۔

پس اٹھارویں ترمیم کے ثمرات لینے والوں اور اِس کے حق میں صبح و شام رطب اللسان رہنے والوں نے اپنے اپنے زیرِ نگیں علاقوں میں پہلے سے موجود بلدیاتی نظام کے اختیارات بھی عوامی نمائندوں سے واپس لے کر اُنہیں اپنے صوابدیدی اختیارات میں مرتکز کرلیا۔ کاش اٹھارویں ترمیم کی سیاسی چھتری تلے گزر بسر کرنے والے عوامی رہنما اِس ترمیم کے ثمرات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے میں بھی کچھ چابکدستی کا مظاہرہ کرتے اور اٹھارویں ترمیم کے ساتھ ملنے والے وفاقی اداروں کی پرورش بھی بالکل ویسے ہی کرتے جیسا کہ وہ اپنے کاروباری اداروں کی کرتے رہے ہیں۔اگر ایسا ہوجاتا تو یقین سے کہا جاسکتا ہے آج آٹھویں ترمیم کی 9 ویں سالگرہ کے موقع کسی بھی صوبہ کے منتظم اعلیٰ کو یہ خوف اور ڈر لاحق نہیں ہوتا کہ اٹھارویں ترمیم اپنی طبعی عمر پوری نہ کرسکے گی۔
گفتگو کرتے ہیں باہم،جام و پیمانہ ابھی
قابل ِ ترمیم ہے آئین ِ پیمانہ ابھی

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور کے شمارہ 11اپریل 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں