Imran Khan and Zayad Bin Nihan

مشتری بارہ سال بعد

مشتری کو علم نجوم میں عام طور پر دولت کا ستارہ تسلیم کیا جاتاہے۔اسی نسبت سے ہماری پیاری زبان اُردومیں کبھی کبھار تاجر حضرات اپنی دُکان میں آنے والے گاہک کو بھی مشتری کہہ کر مخاطب کر دیتے ہیں کیونکہ گاہک اُن کے لیئے مال و دولت لے کر آتا ہے۔اس کے علاوہ آپ نے اکثر و بیشتر اخبار ات و جرائد میں ”مشتری ہوشیار باش“ کے جلی عنوان کے تحت مختلف قسم کے اشتہار ات بھی ضرور ملاحظہ فرمائیں ہوں گے۔اِن اشتہارات میں بھی مشتری سے مراد عام خریدار ہی ہوتاہے۔ہم انسانوں کی روز مرہ زندگی میں دیگر ستاروں کے مقابلے میں مشتری کو اِتنی زیادہ شہرت و ناموری حاصل ہونی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ماہرینِ علم نجوم ہمیشہ سے ہی مشتری کو خوش بختی کی سب سے بڑی علامت سمجھتے آئے ہیں اور جب بھی ستارہ مشتری کسی کے زائچہ میں سعد نظرات کے تحت آجائے تو حاملِ زائچہ کو قسمت کا دھنی بنادیتاہے۔مگر مصیبت یہ ہے کہ مشتری اپنا ایک چکر کم و بیش بارہ سال کے طویل عرصہ میں مکمل کرتا ہے یعنی اگر مشتری ایک بار آپ کے زائچہ کے خانہ مال سے نکل جائے تو پھر اس کی واپسی ٹھیک بارہ سال کے بعد ہی ہوگی۔مشہور مثل ہے کہ ”بارہ سال بعد تو کُوڑے کی قسمت بھی پلٹ جاتی ہے“۔اِس زبان زدِ عام محاورہ کے پیچھے بھی مشتری سے وابستہ خوش اعتقادی ہی کارفرما ہے۔جس طرح ایک عام آدمی کے زائچہ میں مشتری کی آمدسے نصیب یاوری کی اُمید بر آتی ہے۔بالکل اُسی طرح ملکوں کے زائچے بھی مشتری کے سعد نظرات کے تحت آجانے سے زبردست خوشخبریوں کی توقع کی جاسکتی ہے۔خوشا نصیب کے پاکستان بھی طویل مدت بعد مشتری کی سعد نظرات کے حصار میں آتا دکھائی دے رہا اور یہ صرف ہم نہیں کہتے بلکہ علم نجوم کی برسہابرس کی عظیم دانش سے وابستہ ہر شختص اِس وقت یہ مژدہ جانفزاد سناتا دکھائی دیتا ہے کہ ”اِک ذراصبر کہ ”آزمائش“کے دن تھوڑے ہیں“۔

جغرافیائی لحاظ سے جدید دنیا کی بات کی جائے تو کہا جاسکتاہے کہ پورے خطہ ارض میں اِس وقت صرف بلادِ عرب و حجاز ہی وہ واحد جگہ ہے جہاں ستارہ مشتری گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا دکھائی دیتا ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ یورپ وامریکہ کی اختراعی برتری،عظیم تر علمی مقام اورمعاشی چکاچوند کے چراغوں کے اندر بھی اہلِ عرب کے قیمتی تیل کا ہی ایندھن جلتاہے۔ ویسے تو ہمیں عربوں سے اور عربوں کو ہم سے ہمیشہ ہی سے ذہنی و قلبی لگاؤ رہا ہے لیکن گزشتہ چند ماہ سے سرزمینِ حجاز کا خصوصی التفات جس طرح سے پاکستان کی سمت ضرورت سے زیادہ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اُس سے تو فقط یہ ہی خوش گمانی اختیار کرنے کو دل چاہتاہے کہ شاید اب ہماری ارضِ پاک کے اُفق پر بھی بہت جلد ستارہ مشتری طلوع ہونے کو ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک یہ ایک خوش اعتقادی ہوسکتی ہے لیکن میرا ماننا ہے کہ آخر ہم یہ خوش اعتقادی کیوں نہ رکھیں جبکہ ہماری مملکتِ پاکستان ٹھیک اُسی قطعہ ئ ارضی پر تو قائم ہے ”میرِ عرب ﷺ کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے۔۔۔!“۔

ٹھیک12سال بعد متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شہزادہ شیخ محمد بن زید النہیان کی پاکستان آمد اور ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان کا اُنہیں ائیرپورٹ سے اپنی گاڑی میں بٹھا کر اورپھر اِس گاڑی کو خود ڈرائیو کر کے وزیراعظم ہاؤس تک لے کر آنا ظاہر کرتا ہے کہ سرزمین ِ حجاز کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا ایک نیا باب رقم ہونے جارہا ہے۔میڈیا میں زیرِ گردش خبروں کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کے مابین ہونے والی ملاقات انتہائی کامیاب رہی اور دو ریاستوں کے سربراہوں کی اس باہمی گفت شنید سے پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے حوالے سے کئی فقید المثال عملی اقدامات اُٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔جیسے تجارت کے لیئے ٹاسک فورس بنانے کا اعلان،دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے سدباب کے لیئے مل کر کام کرنے کاارادہ،نئے جدید فلاحی اداروں کا قیام،دفاعی استعداد کار میں اضافہ کے لیئے نئی کوششوں کا آغازور ملک میں ایک وسیع و عریض آئل ریفائنری قائم کرنے کا عہد و پیمان۔ سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ مذکورہ بالا اُمور میں سے کون سے ایسا کام ہے جو اس لمحہ موجود میں پاکستان کے لیئے ضروری نہ ہو۔سب جانتے ہیں کہ تجارت کے لیئے ٹاسک فورس بنانا اس لیئے لازم ہے کہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان ماضی میں کیئے گئے تمام تجارتی معاہدوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جاسکے تاکہ معلوم ہو سکے کہ سابقہ حکمرانوں نے کس کس تجارتی معاہدہ میں ملکی مفاد پراپنے اور اپنے خاندان کے لیئے ”اقامہ“ کے حصول کو مقدم رکھا۔نیز دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کا مل کر سدباب کرنا اس لیئے اہم ہے کہ پاکستان سے لوٹا گیا زیادہ تر پیسہ متحدہ عرب امارات کی ریاستوں میں ہی مختلف شکلوں میں موجود ہے جس کا وطنِ عزیز میں جلد از جلد واپس آنا ملک کی معاشی صورتحال سدھارنے کے لیئے ازحد ضروری ہے۔جبکہ اگر فلاحی اداروں کے قیام کی بات کی جائے تو بلاشبہ شیخ زید بن سلطان النہیان کے زمانے سے ہی مختلف ہسپتالوں،مساجد،تعلیمی اداروں اور دیگر سماجی فلاح کی صورت میں کئی کارآمد ادارے قائم کیئے ہی جاتے رہے ہیں لیکن ایک طویل عرصہ سے متحدہ عرب امارات کی طرف سے پاکستان میں نئے اداروں کے قیام کا سلسلہ کچھ رُک سا گیا تھا۔حالیہ دورہ پاکستان میں ولی عہد کی جانب سے اس سمت از سرِ نو توجہ دینے کی بات پاکستانی عوام کے لیئے ایک بڑی خوشخبری سے کم نہیں ہے۔دُعا ہے کہ 12 سال بعد مشتری اور ولی عہد کا ایک ساتھ آنا خدا میرے ملک کے لیئے نیک فال کرے۔
کوئی بات عقرب و شمس کی،کوئی ذکر زہرہ و مشتری
تو بڑا ستارہ شناس ہے مجھے کوئی اچھی سی فال دے

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 10 جنوری 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں